اندرون دو یوم فہرست کی اجرائی ۔ کانگریس سے انتخابی مفاہمت بھی نہیں کی جائیگی ۔ چندر شیکھر راؤ کا اعلان
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے لوک سبھا کی 10 اور اسمبلی کی 70 نشستوں کیلئے امیدواروں کو قطعیت دے دی ہے۔ توقع ہے کہ اندرون دو یوم فہرست جاری کردی جائے گی۔ پارٹی الیکشن کمیٹی کا اجلاس آج تلنگانہ بھون میں منعقد ہوا جس میں مختلف سروے رپورٹس، ضلعی کمیٹیوں کی رپورٹس و امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے پہلی فہرست کو قطعیت دی گئی۔ پارٹی صدر چندر شیکھر راؤ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 65 تا 70 اسمبلی امیدواروں اور 10لوک سبھا امیدواروں میں 51 فیصد کا تعلق کمزور طبقات سے ہے۔ اس کے علاوہ پسماندہ طبقات کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ارکان اسمبلی میں تقریباً کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کے سی آر نے کانگریس سے انتخابی مفاہمت کو ناممکن قراردیتے ہوئے سی پی آئی سے مذاکرات کا اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ٹی آر ایس اور کانگریس میں راست مقابلہ ہوگا جبکہ تلنگانہ میں تلگودیشم کا کوئی وجود نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 17 تا 21 مارچ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کیلئے نامزدگی کا مرحلہ ہے لہذا ان کیلئے پارٹی امیدواروں کی فہرست جاری کردی جائیگی۔
کے سی آر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس کو اسمبلی میں اکثریت عطا کریں اور لوک سبھا کی 16نشستوں پر کامیاب کریں تاکہ خوشحال تلنگانہ کی تشکیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے ذریعہ ترقی ممکن ہے اور ٹی آر ایس کے ہاتھوں میں تلنگانہ محفوظ رہیگا۔ انہوں نے کہا کہ 14برسوں کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے اور نئی ریاست کو کسی اور کے ہاتھ میں دینا ٹھیک نہیں۔ جدوجہد کے دوران عوام نے جب خواہش کی ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں نے اپنے استعفے پیش کئے اس کے برخلاف کانگریس کے تلنگانہ قائدین 10برسوں تک جدوجہد سے دور رہے اور انہوں نے عہدوں سے استعفی دینے سے گریز کیا۔ کے سی آر نے تلگودیشم پر تلنگانہ عوام سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا سے تعلق رکھنے والے قائدین تلنگانہ پر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ تلنگانہ کو خوشحال بنانے اور عوام کے چہروں پر خوشی بکھیرنے ٹی آر ایس حکومت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ 16 لوک سبھا نشستوں سے کامیابی کے ذریعہ ٹی آر ایس قومی سطح پر تشکیل حکومت میں اہم رول ادا کریگی۔ مرکز سے نئے پراجکٹس اور فنڈز کے حصول کیلئے زائد لوک سبھا نشستوں پر ٹی آر ایس کی کامیابی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی پراجکٹس تلنگانہ کیلئے ضروری ہیں جنکی منظوری مرکز سے حاصل کی جانی ہے۔ جس طرح سابق میں انا ڈی ایم کے نے ٹاملناڈو کیلئے مرکز سے مختلف پراجکٹس اور مراعات حاصل کی اسی طرح ٹی آر ایس بھی تلنگانہ کی ترقی کو یقینی بنائیگی۔ کے سی آر نے کہا کہ مستقبل کا ہندوستان علاقائی جماعتوں کے الحاق پر مشتمل ہوگا اور علاقائی جماعتیں مرکز میں حکمرانی کریں گی۔ لہذا ٹی آر ایس کیلئے سنہری موقع ہے وہ مضبوط موقف کے ساتھ ریاست کی ترقی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے آخری قطرہ خون کی قربانی کا عزم ظاہر کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 تا 6 ارکان اسمبلی پارٹی میں شمولیت کیلئے تیار ہیں تاہم انکے سروے رپورٹس منفی ہونے سے انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں آندھرائی جماعتوں کیلئے کوئی جگہ نہیں رہیگی اور تلگودیشم اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں پر کامیابی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف سروے میں بیشتر حلقوں میں تلگودیشم کے حق میں ایک تا دو فیصد تائید کی پیش قیاسی کی گئی ہے جبکہ دو حلقوں میں 11فیصد تائید کا اندازہ کیا گیا۔ اس اعتبار سے تلگودیشم کا تلنگانہ سے صفایا یقینی ہے۔ تلنگانہ پولٹیکل جے اے سی قائدین کو ٹکٹ کے مسئلہ پر کے سی آر نے کہا کہ سرینواس گوڑ کو محبوب نگر سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دیگر قائدین کے نام زیر غور ہیں۔ انہوں نے کانگریس و ٹی آر ایس میں انتخابی مفاہمت نہ ہونے کیلئے جئے رام رمیش اور ڈگ وجئے سنگھ کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قائدین نے ویلن کا رول ادا کیا ہے جس کے باعث انتخابی مفاہمت نہ ہوسکی۔ ڈاکٹر کیشو راؤ، این نرسمہا ریڈی، ای راجندر ا ور دیگر موجود تھے۔ بعد میں انتخابی منشور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔