ٹی آر ایس کے کئی وزراء اور ارکان اسمبلی کانگریس سے رابطہ میں

پارٹی بدلی کے لیے موقع کی تلاش ، ملو بٹی وکرامارک کانگریس ورکنگ پریسیڈنٹ کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ملو بٹی وکرامارک نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 7 تا 8 وزراء اور تقریبا 15 ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کانگریس کے رابطے میں ہیں وہ صحیح وقت پر مناسب فیصلہ کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ سیاسی انحراف کرنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل میں چند ارکان حکمران ٹی آر ایس کے پل پل کی کانگریس کو اطلاعات فراہم کررہے ہیں ۔ میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے یکطرفہ فیصلے اور پارٹی قائدین سے ملاقات نہ کرنے پر ٹی آر ایس کے وزراء اور ارکان اسمبلی وغیرہ ناراض ہے ۔ ٹی آر ایس میں خاندانی مداخلت بڑھ جانے پر بھی ٹی آر ایس کے عوامی منتخب نمائندوں اور سرگرم قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ متحدہ ورنگل ضلع کی ایک خاتون رکن اسمبلی کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع سے پارٹی قائدین بھی انہیں سرکاری اور تنظیمی امور میں نظر انداز کرنے پر ناراض ہیں یہی نہیں تلگو دیشم اور بی جے پی قائدین بھی کانگریس سے رابطے میں ہیں اور بڑے پیمانے پر کانگریس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں ۔ تاہم کانگریس پارٹی صحیح وقت پر انہیں کانگریس میں شامل کرے گی ۔ اس مسئلہ پر پارٹی ہائی کمان سے بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔ کانگریس سے سیاسی انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل بھی رابطے میں ہے کیا ؟ سوال کا جواب دیتے ہوئے ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے چند قائدین کانگریس کو ٹی آر ایس کی پل پل کی معلومات فراہم کررہے ہیں وہ بھی عنقریب دوبارہ کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ ہر قائد کو کانگریس میں شامل کیا جائے گا کیا کہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا صحیح وقت پر کانگریس ہائی کمان مناسب فیصلہ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر روشنی ڈال رہے ہیں ۔ مستقبل کے بارے میں ہائی کمان کا فیصلہ قطعی ہوگا ۔ کانگریس میں شامل ہونے والے وزراء کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا تو ملو بٹی وکرامارک نے میڈیا کے نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ ناموں کے بارے میں دریافت نہ کریں اس سے وزراء اور کانگریس دونوں کے لیے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں کانگریس بھاری اکثریت سے تلنگانہ میں حکومت تشکیل دے گی ۔ کانگریس کی مقبولیت اور حکومت کے خلاف عوام میں پائی جانے والی مخالف لہر کو بھانپنے کے بعد وزراء اور ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہونے کا من بنالیا ہے ۔۔