حیدرآباد۔/19مئی، ( سیاست نیوز) قائد تلنگانہ تلگودیشم مقننہ پارٹی مسٹر ی دیاکر راؤ نے یہ کہتے ہوئے کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے بعض اہم قائدین عثمانیہ یونیورسٹی اور کاکتیہ یونیورسٹی اراضیات پر قبضہ کر رکھنے کے سنسنی خیز انکشاف کئے اور بتایا کہ یونیورسٹیز کی اراضیات پر غیر مجاز طور پر قبضہ کئے ہوئے یہ قائدین اب اپنے ان غیر مجاز قبضوں کو باقاعدہ بنانے میں مصروف ہیں۔ مسٹر دیاکر راؤ نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کی انتہائی قیمتی اراضی پر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے قائد مسٹر ایم یادگیری ریڈی نے غیر مجاز قبضہ کرکے بڑی عالیشان ہوٹل تعمیر کی ہے۔ اسی طرح ورنگل میں مسٹر ڈی سرینواس راؤ نے 100ایکر قیمتی سرکاری اراضیات پر غیر مجاز طور پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی آر ایس کے ایک رکن اسمبلی نے کاکتیہ یونیورسٹی کی قیمتی اراضی پر قبضہ کررکھنے کا الزام عائد کیا۔ قائد تلنگانہ تلگودیشم مقننہ پارٹی مسٹر دیاکر راؤ نے ٹی آر ایس زیر قیادت تلنگانہ حکومت کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ محض چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی دختر رکن پارلیمان شریمتی کے کویتا کو مرکز میں عہدہ دلانے کیلئے بھی وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی غیر معمولی ستائش و تعریف کے پل باندھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر مرکزی کابینہ میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی شمولیت اختیار کرنے کی صورت میں تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی اور بی جے پی اتحاد ختم ہوجائے گا اور تلگودیشم پارٹی بی جے پی کی حلیف جماعت برقرار نہیں رہے گی۔