ٹی آر ایس کی کانگریس کے ساتھ اتحاد کی پیشکشی پر غور کرنے کا اعلان

حیدرآباد ۔ 17 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ کانگریس نے اتحاد کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں اگر ٹی آر ایس پیشکش کرتی ہے تو اس پر ضرور غور کیا جائے گا ۔ دو مرتبہ صدر پردیش کانگریس کمیٹی نامزد ہونے پر ڈی سرینواس سینئیر قائد کیسے ہوگئے ؟ مسٹر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ آج تلنگانہ میں ہولی منائی جارہی ہے ۔ مستقبل میں مزید دور ہولیاں منائی جائے گی ۔ جس میں ایک کانگریس کی کامیابی کی ہوگی اور دوسری 2 جون کو علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے انضمام یا اتحاد کرنے کا کبھی ٹی آر ایس سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ بلکہ خود مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا اعلان کیا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اپنے وعدے سے منحرف ہوتے ہوئے اتحاد کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ اگر کمیٹی اتحاد کے لیے کانگریس سے رجوع ہوتی ہے تو کانگریس اس پر ضرور غور کرے گی ۔

اگر نہیں ہوئی تو بھی کانگریس تنہا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے ۔ سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤکی جانب سے تعلقات میں بگاڑ کے لیے کانگریس کو ذمہ دار قرار دینے اور ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو کانگریس میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کا الزام عائد کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس میں ڈاکٹر کے کیشو راؤ کے بشمول دو ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ کئی ارکان اسمبلی کو شامل کرلیا گیا ۔ کیا اس کو بنیاد کر کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے وعدے سے دستبرداری اختیار کی ہے ۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کانگریس پارٹی نے سیما آندھرا میں بہت بڑے نقصان کو برداشت کرتے ہوئے تلنگانہ کے عوام سے کئے گئے وعدے کو پورا کیا ہے ۔ 2004 میں کانگریس سے اتحاد کرنے والی ٹی آر ایس کو 42 اسمبلی نشستیں مختص کی گئیں

تاہم 50 سے زائد اسمبلی حلقوں پر مقابلہ کرتے ہوئے صرف 26 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی گئی ۔ 2009 کے عام انتخابات میں تلگو دیشم ۔ ٹی آر ایس اور کمیونسٹ جماعتوں نے عظیم اتحاد کیا باوجود اس کے ٹی آر ایس صرف 10 اسمبلی حلقوں تک محدود رہ گئی تنہا مقابلہ کرتے ہوئے کانگریس نے 50 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی اب تو کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے اور عوام کا ساتھ کانگریس کو ہے ۔ کانگریس زبردست مقابلہ کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کے لیے بھاری اکثریت حاصل کرے گی ۔ جانا ریڈی نے پیروی نہ کرنے کا ریمارکس کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیروی کے بغیر ہائی کمان کی جانب سے صدر پردیش تلنگانہ کانگریس کمیٹی نامزد ہوئے ہیں ۔ ڈی سرینواس سینئیر ہونے کے باوجود انہیں نظر انداز کرتے ہوئے آپ کو صدر بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پنالہ لکشمیا نے کہا کہ دو مرتبہ صدر پردیش کانگریس کمیٹی بن جانا کوئی سیناریٹی کی علامت نہیں ہے جب کہ دونوں نے ایک ساتھ سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا ہے ۔۔