چندر شیکھر راؤ کی پارٹی قائدین سے ملاقات ، اسمبلی اور لوک سبھا کے نتائج بھی موافق ہونے کی توقع
حیدرآباد۔/13مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مجالس مقامی کے انتخابات میں ناقص مظاہرہ سے مایوس ٹی آر ایس قیادت کو اس وقت نیا حوصلہ ملا جب ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات میں پارٹی نے شاندار مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ قومی میڈیا کی جانب سے کئے گئے سروے میں تلنگانہ میں لوک سبھا کی زائد نشستوں پر ٹی آر ایس کی کامیابی کی پیش قیاسی نے پارٹی میں جشن کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ سے آج پارٹی کے کئی قائدین نے ملاقات کی اور ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی نشستوں پر شاندار مظاہرہ کیلئے مبارکباد پیش کی۔ مجالس مقامی میں ٹی آر ایس کو دوسرا مقام حاصل ہوا تھا جبکہ آج ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے نتائج کے ذریعہ ٹی آر ایس نے کانگریس پر سبقت حاصل کرلی۔ پارٹی نے عادل آباد، کریم نگر، نظام آباد اور محبوب نگر میں بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ٹی آر ایس قیادت آج کے نتائج کی بنیاد پر اسمبلی اور لوک سبھا کے نتائج کا اندازہ کررہی ہے۔ کے سی آر سے ملاقات کرنے والے پارٹی کے ایک سینئر قائد نے بتایا کہ چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں تشکیل حکومت کے بارے میں پُرامید ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کسی بھی پارٹی کی تائید کے بغیر ٹی آر ایس حکومت تشکیل دینے کے موقف میں ہوگی۔ قائدین کا اندازہ ہے کہ ٹی آر ایس 60تا70نشستیں باآسانی حاصل کرسکتی ہے اور لوک سبھا کی 17 نشستوں میں ٹی آر ایس کو 10تا12نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ پارٹی ترجمان نے معلق اسمبلی سے متعلق پیش قیاسیوں کو مسترد کردیا
اور کہا کہ تلنگانہ عوام نے مجالس مقامی اور ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی میں جس انداز سے ٹی آر ایس کی تائید کی ہے اس بنیاد پر ٹی آر ایس کا حکومت تشکیل دینا واضح دکھائی دیتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے بھی بعض خانگی اداروں کے ذریعہ سروے کروایا جس کے نتائج پارٹی کے حق میں برآمد ہوئے۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو سروے رپورٹ کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ قائدین کے ساتھ اجلاس میں کے سی آر نے ان اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لیا جہاں پارٹی کا مظاہرہ توقع کے مطابق نہیں رہا، اس کی وجوہات اور آئندہ اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 16مئی کو نتائج کے اعلان کے بعد پارٹی کے کامیاب امیدواروں کیلئے خصوصی کیمپ منعقد کرنے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ کانگریس کی جانب سے انہیں اپنی تائید میں لینے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ نومنتخب ارکان کو پارٹی کے ساتھ برقرار رکھنے کے علاوہ معلق اسمبلی کی صورت میں کس پارٹی کی تائید حاصل کی جائے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ اگزٹ پول میں آئی بی این نیوز چینل نے ٹی آر ایس کو 12، کانگریس کو 5اور بی جے پی۔ تلگودیشم اتحاد کو 4نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی ہے جبکہ ٹائمز ناو اورORG کے مطابق ٹی آر ایس 8تا10، کانگریس 3تا5، بی جے پی ۔ تلگودیشم 2اور دیگر 2نشستوں پر کامیابی حاصل کریں گے۔