خیریت آباد ٹی آر ایس اسمبلی امیدوار منے گوردھن ریڈی کی عوام سے ملاقات
حیدرآباد۔18اپریل( سیاست نیوز)انسانیت کی خدمت ہی کو اپنی زندگی کا مقصد بتاتے ہوئے تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کے امیدوار اسمبلی حلقہ خیریت آباد مسٹر منے گوردھن ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اپنے پارٹی منشور میںواضح طور پر اس بات کا اعلان کیاہے کہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی ریاستِ تلنگانہ میںبرسراقتدار آتی ہے توتمام طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع اور حسب وعدہ ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی اور اقلیتی طبقات کو آبادی کے تناسب تحفظات ومراعات فراہم کئے جائیںگے۔آج اسمبلی حلقہ خیریت آباد کے مختلف محلہ جات کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے ملاقات کی اور پارٹی منشور کے متعلق عوام کو واقف کروایا انہوںنے کہاکہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی جس نے تیرہ سالہ جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو یقینی بنانے کا کام کیاہے وہ تلنگانہ کی عوام کودرپیش بنیادی مسائل سے اچھی طرح واقف ہے انہوں نے مزیدکہاکہ عوامی مسائل کے حل کے لئے تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کا اقتدار میںآنا اور شہر حیدرآباد سے ٹی آر ایس کے امیدواروں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔ مسٹر منے گوڑ نے حمایت نگر کی گلی نمبر ایک سے لیکر 14تک نکالی گئی ریالی کے دوران مختلف مقامات پر راست مقامی عوام سے اپنے حق میں ووٹ کے استعمال کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہاکہ خیریت آباد کی سلم بستیوں کو بنیادی سہولتوں سے آراستہ کرنا‘ متعلقہ عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہی میرے انتخاب کا مقصد ہوگا۔انہوںنے کہاکہ خیریت آباد اسمبلی حلقہ کی ترقی پوری ریاست کے لئے ایک مثال ہوگی انہوں نے مزیدکہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے اسمبلی حلقہ خیریت آباد کی ترقی کو یقینی بنانے کاکام کیاجائے گا مسٹر ایم گوردھن ریڈی نے کہاکہ آج بھی بارش کے موسم میں اسمبلی حلقہ خیر یت آباد کی عوام بالخصوص دومل گوڑ ہ ‘ حمایت نگر کی عوام کو کافی دشواریوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے سلم علاقوں کے درپیش مسائل کو سب سے پہلے حل کرنے کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ سلم علاقوں میں زیادہ تر غریب عوام زندگی گذارتے ہیںجہا ں سہولتوں کی کمی مقامی عوام کے لئے دشوار کن مرحلہ بنا ہوا ہے۔سینکڑوں کی تعداد میں ٹی آر ایس قائدین اور کارکن بھی اس موقع پر موجود تھے جن میں شیخ جہانگیرپاشاہ‘محمدنثار ‘ محمدجلال‘ کبیر الدین‘ جاوید خان‘ ایم اے اکبر‘ سید خلیل کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ تلنگانہ حامی تہذیبی کلاکار بھی اس دورے میں موجود تھے جنھوں نے تلنگانہ تحریک کے مقبول گیتوں پر بہترین مظاہرہ پیش کیا۔