ٹی آر ایس کا ایک سالہ دور مایوس کن

مرکزی کابینہ میں شمولیت کی خاطر بی جے پی سے ساز باز: پونم پربھاکر
حیدرآباد /19 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس نے مرکزی کابینہ میں شمولیت کے لئے فرقہ پرست بی جے پی سے خفیہ ساز باز کرنے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق گورنمنٹ چیف وہپ جی وینکٹ رمنا ریڈی نے یہ بات کہی۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر بھی موجود تھے۔ جی وینکٹ رمنا نے کہا کہ ٹی آر ایس اقتدار کی بھوکی ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مجاہدین تلنگانہ کے ارکان خاندان کو کچھ نہیں ملا، مگر کے سی آر چیف منسٹر بن گئے اور ان کے فرزند و بھانجے ریاستی کابینہ میں شامل ہو گئے اور اب وہ اپنی دختر رکن پارلیمنٹ نظام آباد مسز کویتا کو مرکزی کابینہ میں شامل کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے ساز باز کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مرکزی حکومت این چندرا بابو نائیڈو کا دباؤ قبول کرتے ہوئے تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جب کہ خفیہ ساز باز کے باعث چیف منسٹر تلنگانہ مرکز کے ساتھ نرم رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو ٹی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے تلنگانہ کے طرز پر تحریک شروع کرنی پڑے گی۔ دریں اثناء پونم پربھاکر نے کہا کہ ٹی آر ایس کا ایک سالہ دور اقتدار مایوس کن ہے۔ سماج کا کوئی طبقہ حکومت کی کار کردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی بحران کے سبب کسان خودکشی کر رہے ہیں، میڈیکل ایمرجنسی سہولت فراہم کرنے والی 108 سروس کے ملازمین احتجاج کر رہے ہیں، آر ٹی سی کے ملازمین نے ایک ہفتہ تک ہڑتال کیا، برقی کے کنٹراکٹ ملازمین احتجاج کا رخ اپنائے ہوئے ہیں، اس طرح ٹی آر ایس حکومت تمام شعبوں میں ناکام ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ مسلمانوں اور قبائل کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اب تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔