حیدرآباد ۔22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) برسر اقتدار تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے 24 اپریل سے شروع ہونے والے پلینری سیشن میں اقلیتی قائدین کی جانب سے حالیہ آلیر انکاؤنٹر کو موضوع بحث بنانے کی اطلاعات پر حکومت چوکس ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض اقلیتی قائدین پلینری سیشن میں اظہار خیال کا موقع ملنے پر آلیر انکاؤنٹر کی سی بی آئی یا عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین نے اس سلسلہ میں باہمی مشاورت کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ کسی طرح مسلم نوجوانوں کو پولیس کی جانب سے ہلاک کئے جانے کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ فرضی انکاؤنٹر کے اس واقعہ کے بارے میں پارٹی کے اقلیتی قائدین نے اگرچہ ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن بیشتر قائدین اس مسئلہ کو موضوع بحث بنانے سے خوفزدہ ہیں۔ ایسے قائدین جن کا تعلق گریٹر حیدرآباد سے ہے، وہ شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء کے دباؤ میں ہیں۔
کیونکہ ان قائدین کو مختلف سرکاری عہدوں پر تقررات کا لالچ دیا گیا ہے ۔ یہ قائدین اپنے عہدوں کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے۔ نظام آباد ضلع میں بعض اقلیتی قائدین نے پولیس تحویل میں مسلم نوجوان کی ہلاکت پر حکومت کی سرد مہری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دیدیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ پلینری سیشن میں اس حساس موضوع کو موضوع بحث بننے سے روکنے کیلئے وزراء اور سینئر قائدین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اقلیتی قائدین پر نظر رکھیں۔ اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ اقلیتی قائدین کو اظہار خیال کا زائد موقع نہ ملے، جن اقلیتی قائدین کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا جائے گا، ان کا شمار حکومت اور پارٹی کے وفاداروں میں سے ہوگا۔
اقلیتی قائدین کا ماننا ہے کہ فرضی انکاؤنٹر کے بعد مسلمانوں کی جانب سے ان پر زبردست دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ یا تو تحقیقات کا اعلان کرائیں یا پھر پارٹی سے مستعفی ہوجائیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اقلیتی قائدین اس اہم ترین مسئلہ کو پارٹی فورم میں اٹھانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے یا پھر سرکاری عہدوں کی لالچ میں مصلحت کا شکار ہوجائیں گے۔ پارٹی نے پلینری کے سلسلہ میں 7 علحدہ کمیٹیاں تشکیل دیں جن میں قرارداد کمیٹی اہمیت کی حامل ہے۔ تمام کمیٹیوں میں مسلم ا قلیت کی نمائندگی صرف ضابطہ کی تکمیل ہے۔ قرارداد کمیٹی میں محمد فریدالدین کو شامل کیا گیا جبکہ سٹی ڈیکوریشن کمیٹی میں ڈپٹی چیف منسٹر کے فرزند اور ایک قریبی حامی کو شامل کیا گیا۔ پارٹی نے اسٹیج گراؤنڈ کے انتظامات ، پارکنگ جیسی غیر اہم کمیٹیوں میں مسلم اقلیت کو برائے نام نمائندگی دی ہیں۔ حالانکہ قرارداد کمیٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اقلیتوں میں حکومت کے چہرے کے طور پر پیش کئے جارہے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کو مندوبین کے طعام کے انتظامات حوالے کئے گئے۔ اس کمیٹی میں ایک مسلم ایم ایل سی اور ایک تاجر کو بھی شامل کیا گیا تاکہ بہتر طعام کے انتظامات ہوں ۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین ہائی کمان کے اس رویہ سے خوش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان قائدین صرف کیٹرنگ کے انتظامات تک محدود کیوں ؟ کیا ان میں قراردادوں کی تیاری میں حصہ داری کی صلاحیت نہیں ؟ دیکھنا یہ ہے کہ پلینری سیشن میں اقلیتوں سے متعلق کیا قرارداد پیش کی جائے گی اور حالیہ فرضی انکاؤنٹر پر حکومت کا کیا رد عمل رہے گا۔ کیا اقلیتی قائدین میں پائی جانے والی بے چینی کا اظہار پلینری سیشن میں ہو پائے گا ۔