ٹی آر ایس پارٹی گروپ بندیوں میں اضافہ

عادل آباد میں ریکھا نائیک اور رمیش راتھوڑ کے درمیان رسہ کشی کا ماحول ، پارٹی کیڈر کے حوصلے پست
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : حکمران ٹی آر ایس پارٹی میں دن بہ دن پارٹی گروپ بندیوں میں نمایاں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پارٹی کیڈر کے حوصلہ پست ہوتے جارہے ہیں ۔ پارٹی امیدوار مقابلے کے لیے تیار ہیں زور و شور سے تیاری جاری ہے اور مقامی قائدین میں مزید اختلافات منظر عام پر آرہے ہیں ۔ ایک نشست کے لیے پانچ تا چھ دعویدار مقابلہ کے لیے میدان میں آنے کے امکانات ہیں ۔ حال ہی میں ورنگل میں گروپ بندی میں شدید تنازعہ کے بعد اب نیا تازہ ترین واقعہ ضلع عادل آباد میں پیش آیا جہاں مقامی رکن اسمبلی خانہ پور ریکھا نائیک اور رمیش راتھوڑ کے بیچ زبردست رسہ کشی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ریکھا نائیک نے ٹی آر ایس پارٹی سے خانہ پور کے حلقہ اسمبلی سے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے رمیش راتھوڑ کو شکست دی ۔ جس کے بعد رمیش راتھوڑ نے تلگو دیشم پارٹی سے دستبرداری اختیار کرنے کے بعد ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ جیسے ہی وہ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد گروپ بندیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ ریکھا نائیک اور رمیش راتھوڑ کے درمیان نوک جھونک کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں اور کئی جلسوں میں دونوں کے حامیوں میں زبردست تصادم بھی دیکھا گیا اور گروپ کے کارکنوں نے اپنے طور پر مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی درج کروائی ۔ رمیش راتھوڑ نے کئی مرتبہ اپنی تقاریر میں اس بات کا دعویٰ کیا کہ اس بار عوامی انتخابات میں خانہ پور کے حلقہ اسمبلی سے ان ہی کو امیدوار منتخب کیا جائے گا اور انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ کے ٹی آر خود انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی اور رمیش راتھوڑ نے کہا کہ میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جو تلگو دیشم پارٹی سے دستبردار ہو کر ٹی آر میں شامل ہوا ہوں ۔ مجھے اس بات کا بھر پور تیقن دیا گیا تھا کہ پارٹی میں شامل ہو اور مجھے خانہ پور سے ٹکٹ دیا جائے گا ۔ اسی بنیاد پر وہ تین ہزار سے زائد حامیوں کے ساتھ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ ریکھا نائیک نے بھی اس بات کا اعلان کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر انہیں کافی اعتماد ہے اور چیف منسٹر نے خود اس بات کا اعلان کیا کہ اس بار موجودہ ارکان اسمبلی کو ہی ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کئی رمیش راتھوڑ پارٹی میں آئے اور چلے گئے ۔ لیکن میں ( ریکھا نائیک ) آخری سانس تک ٹی آر ایس پارٹی میں ہی رہوں گی ۔ واضح رہے کہ یہ دونوں ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اگر یہاں سے کسی ایک کو بھی ٹکٹ دیں گے تو دوسرا امیدوار کسی دوسری پارٹی میں شامل ہونے کا امکان ہے ۔۔