ٹی آر ایس پارٹی پر لوک سبھا اور اسمبلی ٹکٹوں کو فروختگی کا الزام

پارٹی کو استحکام پہونچانے والوں کو نظر انداز کیا گیا،کانگریس ترجمان شرون کمار

حیدرآباد 18 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کے ترجمان اعلی شرون کمار نے ٹی آر ایس سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راو پر 10 لوک سبھا اور 52 اسمبلی حلقوں کے ٹکٹیں فروخت کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ کل کولر واٹر جسم پر چھڑک خودکشی کرنے کا ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راو پرناٹک کرنے کا الزام عائد کرنے والے شرون کمار نے آج ایک اور سنسنی خیز ریمارک کرتے ہوئے ٹی آر اسی سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راو پر الزام عائدکیا کہ انہوں نے تلنگانہ کے 17 لوک سبھا میں 10 حلقوں اور 119اسمبلی حلقوں میں 52 حلقوں کے پارٹی ٹکٹس فروخت کرلی ہے ابتداء سے پارٹی کے استحکام کرنے والوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حال ہی میں پارٹی میں شامل ہونے والوں کو ٹکٹ دیا ہے۔ مخالف تلنگانہ اور تلنگانہ کی تحریک میں حصہ نہ لینے والوں کو بھی سربراہ ٹی آر ایس نے پارٹی ٹکٹس دیئے ہیں ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ 10 سال تک حیدرآباد کے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت کی حیثیت سے صدر ٹی ار ایس مسٹر کے چندر شیکھر راو نے قبول کیا۔ آج سیاسی مفادات کیلئے اس کی مخالفت کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ مسٹر شرون کمار نے کہا کہ مسٹر کے چندر شیکھر راو کبھی علحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے تحریک میں حصہ نہیں لیا جبکہ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کیلئے احتجاج کیا اور تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اپنی حکومت میں طلبہ نوجوانوں اور دوسرے تلنگانہ حامیوں کے ساتھ گرفتار ہوئے تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے وزراء کانگریس کے ارکان اسمبلی نے احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس قیادت پر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کیلئے دباو بنایا اور تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی تلنگانہ تحریک میں غیر معمولی رول ادا کیا۔ کانگریس نے وعدے کو پورا کیا ۔ تلنگانہ کے عوام کانگریس کے ساتھ ہے کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے ہوئے نئی ریاست میں پہلی حکومت تشکیل دے گی۔