اعلیٰ عہدیداروں و پولیس افسروں کوگالی گلوج‘ تبادلہ کی دھمکیاں‘ کے سی آر کا امیج متاثر ہونے کا خدشہ
حیدرآباد ۔ 16جولائی ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس میں ان دنوں اعلیٰ عہدیدار بالخصوص پولیس آفیسرس کو دھمکیاں دینے و انہیں دوسرے مقام پر تبادلہ کروادینا عام بات ہوگئی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی وزراء ‘ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اقتدار کے نشے میں دھت ہیں ۔ کرسی کا غیر مجاز استعمال کرکے سرکاری کیڈرکو متاثر کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ ورنگل کے حلقہ جنگاؤں رکن اسمبلی مونی ریڈی اور کلکٹر جنگاؤں کے بیچ تنازعہ اور لفظی جھڑپ کا واضح منظر سامنے آیا جہاں کلکٹر دیوا سنہا نے جواب میں رکن اسمبلی کے خلاف ایک اسائن لینڈ پر غیر مجاز قبضہ اور زمین پر دھاندلی کی شکایت پولیس میں درج کرائی ہے جسکے فوری بعد کلکٹر کا تبادلہ کردیا گیا ۔ بھوپالا پلی جئے شنکر ضلع میں اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری و ضلع کلکٹر مرلی کرشنا کے درمیان تنازعہ میں کلکٹر کا تبادلہ کرا دیا گیا ۔ بتایا جاتا ہیکہ کلکٹر مرلی کرشنا عوام دوست تھے اور عوام سے ان کا رویہ انتہائی دوستانہ تھا ۔ انہوں نے اپنی بچیوں کی زچگی بھی سرکاری دواخانہ میں کروائی تھی جس سے عوام میں مثبت پیغام پہنچایا گیا تھا ۔ مگر کلکٹر سیاسی دباؤ پر کام نہیں کررہے تھے جس کی وجہ سے صرف 6 مہینے میں ان کا تبادلہ کرا دیا گیا ۔ اسی طرح محبوب آباد پی میناکمار ضلع کلکٹر اور رکن اسمبلی شنکر نائیک کے درمیان تناؤ کے درمیان کلکٹر کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا تھا ۔ یہ واقعہ تلنگانہ بھر میں حیرت کا باعث تھا جس کے بعد کلکٹر نے خود چیف سکریٹری سے ملاقات کرکے اور محبوب آباد پولیس اسٹیشن میں بھی شکایت درج کرائی تھی ۔ تاہم سیاسی دباؤ سے کلکٹر میناکماری کا تبادلہ کرا دیا گیا ۔ ایک تازہ واقعہ میں ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے جو چیف منسٹر کے رشتہ دار سمجھے جاتے ہیں اپنی طاقت کا غلط استعمال کرکے سرکل انسپکٹر کو گالی گلوج کرکے انہیں تبادلہ کا انتباہ دیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔ اس میں کرشنا راؤ نے سرکل انسپکٹر جناردھن ریڈی کو فون پر گالی گلوج کی جس پر سرکل انسپکٹر کو جوابی بات میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ آپ ( جی کرشنا راؤ) ہماری دشمنی ہماری بہن سے نکال رہے ہیں ۔ انہوں نے بھی دھمکی دی کہ وہ بھی ڈی جی پی سے ساری تفصیلات سنائیں گے ۔