۔ 5تا 8 وزرا بچوں کو انتخابی میدان میں اتارنے کے خواہاں۔ پارٹی قیادت کی الجھن میں مزید اضافہ
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں ایک طرف داخلی گروہ بندیوں سے قیادت الجھن کا شکار ہے تو دوسری طرف کئی وزراء اور ارکان مقننہ نے آئندہ عام انتخابات کیلئے اپنے سیاسی جانشین تیار کرلئے ہیں۔ چیف منسٹر پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں ان کی جگہ کسی فرد خاندان کو ٹکٹ دیا جائے جسے وہ سیاسی جانشین کے طور پر پیش کریں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 5 تا 8 ریاستی وزراء نے اپنے بچوں کو سیاست میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا اور وہ اپنے حلقہ جات میں غیر محسوس طریقہ سے سیاسی جانشین کے طور پر عوام میں متعارف کر رہے ہیں۔ وزراء کی ان سرگرمیوں کو اگرچہ چیف منسٹر کی منظوری حاصل نہیں ہے تاہم انتخابات سے عین قبل وزراء کے دباؤ کے آگے کے سی آر کو جھکنا پڑسکتا ہے۔ شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء پدما راؤ اور سرینواس یادو نے اپنے جانشین کو عوام میں متعارف کردیا ہے۔ وہ سیاسی جانشین کو ٹکٹ دیئے جانے کی صورت میں اپنی نشست کی قربانی دینے تیار ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے اپنی دختر کاویا کو سیاسی جانشین بنانے کا فیصلہ کیا ہے وہ ورنگل کے گورنمنٹ ہاسپٹل میں پتھالوجسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔ وہ حلقہ اسمبلی اسٹیشن گھن پور سے ٹکٹ کے خواہاں ہے جہاں سے سابق میں کڈیم سری ہری نمائندگی کرچکے ہیں۔ اسٹیشن گھن پور کے موجودہ رکن اسمبلی اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا نے کڈیم سری ہری کی کوششوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اسپیکر اسمبلی ایس مدھو سدن چاری جو حلقہ اسمبلی بھوپال پلی کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ آئندہ انتخابات میں اپنے فرزند کو ٹکٹ کے خواہاں ہے۔ اسی طرح کونڈا سریکھا اور کونڈا مرلی دھر راؤ اپنی دختر سشمتا پاٹل کو آئندہ انتخابات میں امیدوار بنانا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی وزراء میں ای راجندر ، پوچارم سرینواس ریڈی ، ٹی ناگیشور راؤ، اے چندو لال اور ٹی سرینواس یادو نے اپنے ارکان خاندان کو ٹکٹ کا مطالبہ کیا ہے ۔ ناگیشور راؤ اور سرینواس یادو پارلیمنٹ کیلئے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ سرینواس ریڈی اور چندو لال اپنی صحت اور عمر کے باعث اپنے فرزندان کے حق میں سیاست سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔ ای راجندر اپنی شریک حیات جمنا کو ٹکٹ کے خواہاں ہے جبکہ ناگیشور راؤ اور سرینواس یادو نے اپنے فرزندان یوگیندر اور سندیپ کو اپنی نشستوں سے ٹکٹ دلانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کے داماد سرینواس ریڈی جو رام نگر بلدی ڈیویژن سے کارپوریٹ ہیں، اپنے خسر پر اسمبلی ٹکٹ کیلئے دباؤ بنارہے ہیں۔ مشیر آباد اسمبلی حلقہ سے سابق میں این نرسمہا ریڈی نمائندگی کرچکے ہیں جبکہ فی الوقت یہ حلقہ بی جے پی کے پاس ہے اور ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نمائندگی کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر پنچایت راج جے کرشنا راو اپنے فرزند ارون کو سیاسی میدان میں اتارنا چاہتے ہیں۔ اگر چیف منسٹر ارون کو ٹکٹ دینے کیلئے تیار نہ ہوں تو وہ 2024 ء تک انتظار کیلئے تیار ہیں۔ محبوب نگر کے رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی کے فرزند متھن نے سیاسی عزائم کا اظہار کیا ہے۔ ملکاجگیری کے رکن پارلیمنٹ سی ملا ریڈی کے فرزند مہیندر ریڈی اور داماد راج شیکھر ریڈی کی نظریں میڑچل اور قطب اللہ پور اسمبلی حلقوں پر ٹکی ہیں۔ نئی دہلی میں حکومت کے نمائندے ایم جگنادھم کے فرزند سریکانت عالمپور اسمبلی حلقہ کا ٹکٹ چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کے نریندر ریڈی اور رکن اسمبلی کے بھائی پردیپ راؤ بھی آئندہ انتخابات میں مقابلہ کی تیاری کر رہے ہیں۔