ٹی آر ایس سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے وعدہ کو پورا کرنے کوشاں

حیدرآباد۔3 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ و صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھ راؤ نے اعلان کیا کہ تلنگانہ ریاست میں مستقبل میں کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے کوئی موقع نہیں ہے اور ٹی آر ایس آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ شہر کے مضافاتی علاقہ کومپلی کے آر ڈی کنونشن سنٹر میں پارٹی کے ریاستی سطح کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ عوام کا بھروسہ صرف ٹی آر ایس پر ہے اور وہ کسی اور پارٹی پر اعتماد نہیں کریں گے۔ ٹی آر ایس نے سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کا عوام سے جو وعدہ کیا تھا، اس کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ ان کی حکومت غریبوں کی بھلائی کے علاوہ کسانوں اور صنعتی شعبے کی ترقی کو اہم ترجیحات کے طور پر ایجنڈہ میں رکھتی ہے اور ان تینوں ترجیحات کے ساتھ حکومت کام کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے اقلیتوں اور کمزور طبقات کی بھلائی سے متعلق حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کیا اور غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر فی کس 51 ہزار روپئے کی امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم اور اقلیتی بجٹ کو 1000 کروڑ سے زائد مقرر کرنے کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ چیف منسٹر کی دو گھنٹے سے زائد طویل تقریر میں حکومت کی 7 ماہ کی کارکردگی اور مختلف نئی اسکیمات اور پروگراموں کا احاطہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے اپنے منفرد انداز تخاطب کے ذریعہ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ انہیں اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ حکومت کے اقدامات کو نشانہ بناتے ہوئے تنقید برائے تنقید پر کاربند ہیں۔ کے سی آر نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی دوبارہ کامیابی کی پیش قیاسی کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی تعداد بڑھ کر 154 ہوجائے گی اور ٹی آر ایس کو 135 تا 140 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسی بھی حکومت نے غریبوں اور عوام کی بھلائی کیلئے اس طرح کی اسکیمات کا تصور بھی نہیں کیا جن کا آغاز ٹی آر ایس نے کیا ہے۔ انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کے علاوہ کئی نئی اسکیمات شروع کی گئیں۔ انہوں نے واٹر گرڈ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر گھر کو نل کے ذریعہ پینے کے پانی کی سربراہی اس اسکیم کا مقصد ہے۔ اگر حکومت اس مقصد میں ناکام ہوتی ہے تو عوام سے وہ دوبارہ ووٹ نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں غریب افراد میں پنشن کی رقم ماہانہ 75 روپئے تھی، جسے بڑھاکر 200 روپئے کیا گیا۔ ٹی آر ایس نے غریب عوام کی ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے ماہانہ پنشن کو 1000 روپئے کیا ہے۔ پنشن کی اسکیم پر سالانہ 3500 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد کے اطراف صنعتی ترقی کیلئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ فارما سٹی کے قیام کیلئے انہوں نے اراضی کا سروے کیا ۔ اس کے علاوہ ورنگل کے قریب ٹکسٹائل پارک کے قیام کا سروے کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ راشن کارڈ پر خاندان کے ہر فرد کیلئے 6 کیلو چاول سربراہ کیا جارہا ہے ۔ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ انتخابی منشور میں ان اسکیمات کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا، اس کے باوجود غریب خاندانوں کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے لڑکیوں کی شادی کے وقت امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے حکومت کی تین ترجیحات کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح غریب خاندانوں کی فلاح و بہبود ہے۔ ٹی آر ایس حکومت غریبوں کی حکومت ہے اور وہ ہمیشہ غریبوں کے ساتھ ان کی بھلائی اور تر قی میں شامل رہے گی۔ حکومت کی دوسری ترجیح زراعت ہے، جس کے تحت کسانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی تیسری ترجیح بیروزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے، جس کے لئے شہر اور اس کے اطراف نئے صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 7 ماہ کی حکومت کے دوران 5 ماہ عہدیداروں کی کمی کے باعث حکومت کیلئے مسائل سے بھرپور تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کسانوں اور ڈاکرا گروپس کے قرضوں کی معافی کا وعدہ کرنے والی تلگو دیشم نے آندھراپردیش میں اس مسئلہ پر دھوکہ دیا ہے۔ اس کے برخلاف تلنگانہ میں کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے قرض معاف کئے جارہے ہیں۔ اس اسکیم سے سرکاری خزانہ پر 15000 کروڑ کا بوجھ آئے گا۔ پہلے مرحلہ میں 4250 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے ۔ آئندہ 3 برسوں میں یہ اسکیم مکمل کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو 3 ایکر اراضی اور کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے جیسے وعدوں پر بہر صورت عمل آوری کی جائے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کے مطابق شہدائے تلنگانہ کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے اور پہلے مرحلہ میں امداد تقسیم کردی گئی۔ دیگر شہدائے تلنگانہ کی نشاندہی کا کام ضلع کلکٹرس کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 2 جون تلنگانہ یوم تاسیس سے قبل ہر ضلع میں شہیدان تلنگانہ کی یادگار تعمیر کی جائے گی۔ ہر یوم تاسیس کے موقع پر قومی پرچم لہرانے سے قبل حیدرآباد اور تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر شہیدان تلنگانہ کو خراج پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سرکاری ملازمین کو تلنگانہ انکریمنٹ منظور کیا گیا۔ پولیس کو عصری بنانے خصوصی بجٹ اور خواتین کے تحفظ کیلئے حیدر آباد میں She ٹیمیں تشکیل دی گئی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سرمایہ کاری کے سلسلہ میں صنعتی اداروں کی درخواستوں کی یکسوئی کیلئے سنگل ونڈو سسٹم رائج کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں تلنگانہ حکومت کی صنعتی پالیسی ستائش کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے برقی بحران کا حوالہ دیا اور کہا کہ آئندہ تین برسوں میں بحران پر مکمل قابو پالیا جائے گا۔ دو سال بعد کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی پی سی کی جانب سے 4000 میگا واٹ اور تلنگانہ جینکو کی جانب سے 6000 میگاواٹ برقی تیاری کے پراجکٹ قائم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے برقی کا مسئلہ صرف جاریہ سیزن تک رہے گا۔ تاہم حکومت موثر برقی سربراہی کیلئے بیرونی ریاست سے برقی خرید رہی ہے۔ انہوں نے قائدین اور کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن کی تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر متحد ہوکر کام کریں، جس طرح تلنگانہ جدوجہد کے دوران متحد تھے ۔ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل ہماری ذمہ داری ہے اور اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ چیف منسٹر نے سرکاری اسکیمات پر کامیابی سے عمل آوری میں پارٹی قائدین کے رول کو اہم قرار دیا اور کہا کہ سرکاری اسکیمات کے فوائد گاؤں گاؤں تک پہنچانا قائدین کی ذمہ داری ہے۔ چیف منسٹر نے پارٹی کے 30 لاکھ کارکنوں کیلئے فی کس 2 لاکھ روپئے کے گروپ انشورنس کا اعلان کیا۔
ٹی آر ایس کے 24 اپریل کو صدارتی انتخابات
m چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے 24 اپریل کو پارٹی صدارتی عہدہ کے لئے انتخابات کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رکنیت سازی مہم 20 فروری تک جاری رہے گی۔ یکم تا 10 مارچ ولیج اور وارڈ سطح کی کمیٹیوں کے انتخابات ہوں گے۔ اِس کے بعد منڈل اور میونسپل سطح کے انتخابات 11تا 20 مارچ مکمل کرلئے جائیں گے۔ ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے انتخابات اپریل کے پہلے ہفتہ میں ہوں گے اور پھر 24 اپریل کو پارٹی کا توسیعی اجلاس منعقد ہوگا جس میں صدر کا انتخاب عمل میں آئے گا۔