ٹیپو سلطان کی مجوزہ یادگار کے قیام کیخلاف احتجاج

دنڈیگل (ٹاملناڈو) 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شیر میسور ٹیپو سلطان کی ایک یادگار کے قیام کی یہاں سے 15 کیلو میٹر دور پوتھو کوڈنگی پٹی کے دلتوں نے مخالفت کی ہے۔ اُنھوں نے گرام سبھا میٹنگ میں مخالفت کی ایک قرارداد بھی منظور کروالی اور ضلع حکام کو ایک درخواست بھی دی ہے۔ دریں اثناء مذکورہ گاؤں کے سرپنچ سی پالسامی اور پی سندرا پنڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ٹیپو سلطان کی یادگار قائم کرنے کے لئے جس مقام کا انتخاب کیا ہے وہ 1983 ء سے ہماری عبادت گاہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 1983 ء کوڈنگی پٹی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد دلت افراد پوڈو کوڈنگی منتقل ہوگئے تھے اور وہاں لارڈ گنیش، کالی ماتا اور ماری اماں دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ یہاں کے 1850 دلت خاندان کے لئے یہ مقام بیحد متبرک ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پانچ ایکر اراضی ہم مشترکہ مقاصد بشمول عبادت کے لئے استعمال کرتے ہیں حالانکہ وہاں کوئی پکا مندر نہیں ہے۔ سرپنچوں نے مزید کہاکہ گاؤں میں حالانکہ کوئی سہولیات نہیں ہیں

جیسے بال واڈی، پرائمری ہیلتھ سنٹر اور اسکول جس کے لئے گاؤں کے لیڈروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اُنھیں بھی مندرجہ بالا سہولیات فراہم کی جائیں۔ اگر کوئی بیمار پڑجاتا ہے تو ہمیں 11 کیلو میٹر طویل سفر کرنا پڑتا ہے جو آلامارا تھوپٹی میں واقع ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم شیر میسور ٹیپو سلطان کے مخالف نہیں ہیں جبکہ ہمیں آج بھی اُن کی پوری تاریخ کا علم نہیں ہے۔ اُن کا صرف یہ کہنا ہے کہ یادگار کو وہاں قائم نہ کیا جائے کیونکہ اس سے مستقبل میں نقص امن کا اندیشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ٹاملناڈو کی سابق وزیراعلیٰ جیہ للیتا نے اعلان کیا تھا دنڈیگل ڈسٹرکٹ میں شیر میسور ٹیپو سلطان اور حیدر علی کی یادگاریں قائم کی جائیں گی۔