ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ تاجرین کی باز آبادکاری نظر انداز

حکومت سے امداد کے بجائے پولیس ہراسانی بند کرنے پر زور ، ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 12 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کے لیے حکومت کی جانب سے 2000 کروڑ کی بجٹ میں تخصیص کا اعلان کیا گیا ہے لیکن شہر میں موجود ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے چھوٹے بیوپاریوں کی باز آبادکاری کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا جس سے چھوٹے تاجرین جنہیں روزانہ پولیس ہراسانی و بلدیہ کی کارروائی کا خدشہ لگا رہتا ہے ان میں حکومت کے بجٹ کے تعلق سے کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی ۔ چھوٹے بیوپاری جو کہ شہر کے گہما گہمی والے علاقوں میں اپنے کاروبار کے ذریعہ گذر بسر کررہے ہیں انہوں نے ریاستی حکومت کے بجٹ سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریاستی حکومت سے کوئی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ صرف جس مقام پر کام کررہے ہیں وہاں ہراسانی کا سلسلہ بند ہوجائے تو ان کے لیے کافی ہے ۔ ان چھوٹے تاجرین کا احساس ہے کہ حکومت کے بجٹ سے انہیں راست کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا چونکہ انہیں کوئی قرضہ جات حاصل نہیں ہوتے اور نہ ہی درخواستیں داخل کرنے پر ان کی درخواستوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ مدینہ بلڈنگ کے قریب ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرنے والے سید احمد نے بتایا کہ بجٹ سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے چند برسوں تک وہ یہ دیکھا کرتے تھے کہ بچوں کی اسکالر شپس بجٹ میں ہے یا نہیں لیکن گذشتہ دو برس سے وہ بھی وصول نہیں ہورہی ہے تو انہوں نے بجٹ کی فکر کرنی ہی بند کردی اور جہاں تک ممکن ہوسکے کاروبار پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ چونکہ دو سال سے بچوں کو اسکالر شپس تو حاصل نہیں ہورہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بچے سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں اور دو لڑکیاں خانگی اسکول میں پڑھتی ہیں ۔ اسی طرح فٹ پاتھ پر کام کرنے والے طیب کے بموجب ریاستی یا مرکزی بجٹ سے چھوٹے تاجرین بالخصوص فٹ پاتھ پر کام کرنے والوں کے کاروبار پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن بجٹ کے بعد کی گرانی سے کچھ وقت سنبھلنے کے لیے لگ جاتا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بجٹ سے عام آدمی کو کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ بجٹ نامی کھیل کے کھلاڑی صرف عہدیدار اور سیاستداں ہوتے ہیں چونکہ جب خبروں میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بجٹ کی تعریف کررہا ہوتا ہے تو ایک برس بعد وہی شخص بجٹ کے خرچ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کررہا ہے ۔ چارمینار کے دامن میں ٹھیلہ بنڈی پر میوہ فروخت کرنے والے عبدالرحمن نے بتایا کہ وہ ٹھیلہ بنڈی پر پھیری کے ذریعہ موسمی میوہ فروخت کرتے ہیں اور انہیں بھی شکایت پولیس ہراسانی سے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ حد تک تعلیم حاصل کیے ہوئے ہیں اور اخبار کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں ۔ اسی لیے انہیں سب سے زیادہ خوشی اس دن ہوئی جب ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ کے تاجرین کے لیے پارلیمنٹ میں قانون پاس ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی ان کے پاس کافی اہمیت ہے لیکن صرف گھر کے بجٹ کی اہمیت ہے جو نہ ہو تو گھر چلنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ عبدالرحمن نے ازراہ مذاق کہا کہ ہمارے گھر تو بجٹ کے بغیر نہیں چلتے لیکن یہ حکومتیں پتہ نہیں کیسے چل جاتی ہیں ۔ چھوٹے تاجرین و ٹھیلہ بنڈی رانوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بجٹ کی تخصیص کے ذریعہ جو فائدہ پہنچانے کے اقدام کررہی ہے وہ کرے لیکن چھوٹے تاجرین کو ہراسانی کے سلسلہ کو فوری بند کروائے چونکہ اس سے نہ صرف تجارت میں راحت ہوگی بلکہ چھوٹے تاجرین کو ترقی کا موقع فراہم ہوگا ۔۔