ٹولی چوکی میں بنیادی مسائل کا انبار ، خستہ حال سڑکیں ، کوڑا کرکٹ کا ذخیرہ، مچھروں کی یلغار!

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر میں کئی مقامات پر بنیادی مسائل کا انبار اب نئی بات نہیں رہی ۔ ہر مقام پر کچھ نہ کچھ مسائل نظر میں آرہے ہیں ۔ کہیں بلدیہ کے تو کہیں آبرسانی بورڈ اور کہیں عمارات و شوارع کے مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔ جس کو حل کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس کی ایک زندہ مثال ٹولی چوکی جیسے پاش علاقہ کی ہے جہاں پر ان دنوں لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے کیوں کہ یہاں پر بروقت کوڑا کرکٹ کی نکاسی عمل میں لائی جاتی ہے اور نہ ہی آبرسانی لیکیج کو حل کیا جاتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ عمارات و شوارع کا محکمہ سڑکوں کی درستگی پر توجہ دیتا ہے ۔ بالخصوص جی ایچ ایم سی کے شعبہ انٹامالوجی کا اسٹاف افزآئش مچھر کے انسداد کے لیے مچھر کش ادویات کا چھڑکاؤ ( فاگنگ ) پر توجہ نہیں دیتا ہے ۔ مقامی ایم پی ، ایم ایل اے اور متعلقہ وزیر اور کمشنر کو بھی ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ٹولی چوکی جنکشن کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقہ جات کی عوام پریشانی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ مچھروں کی بے تحاشہ افزائش سے شام کے آغاز کے ساتھ ہی ان کے یلغار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس سے ایک طرف سوائن فلو کا خدشہ تو دوسری طرف ملیریا کا ڈر و خوف لگا ہوا ہے ۔ کھلے نالوں سے فضا میں بدبو سے سانس لینا مشکل ہوگیا ہے ۔ سڑکوں پر بہتے ہوئے ڈرینج کے پانی سے امراض میں اضافہ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ جے سی بی کے ذریعہ نالوں کی صفائی کے بجائے کئی ٹن کوڑا کرکٹ کو اس میں ڈالا جارہا ہے ۔ کوڑا دانوں کا فقدان ہونے کی وجہ سے سڑک پر کچرا پھیل رہا ہے ۔ سڑکوں پر جگہ جگہ کھڈ پڑنے کی وجہ سے پیدل اور گاڑیوں کی آمد و رفت سے کئی حادثات کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جی ایچ ایم سی ، آبرسانی بورڈ ، محکمہ عمارات و شوارع فوری حرکت میں آکر ان مسائل کو حل کریں ۔ اس کے علاوہ متعلقہ حلقہ کے قائدین اپنی کارکردگی کے ذریعہ قیادت کا ثبوت دیں ۔ بصورت دیگر عوام کے احتجاج کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ حکام کو چاہئے کہ وہ اس جانب توجہ دے کر بنیادی مسائل کو فور