حیدرآباد ۔ 30 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : قانون بنتے ہی قانون شکن بھی پیدا ہوجاتے ہیں ۔ پولیس نے شہر حیدرآباد میں ٹریفک قواعد کو مزید سخت کرتے ہوئے پوائنٹ سسٹم کو متعارف کرایا ہے تاہم قانون دشمن عناصر نے بھی اپنے لیے متبادل راستہ نکال لیا ہے اور وہ دوسری گاڑیوں کے نمبرات کا سرقہ کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کو لگا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی جانب سے کی جانے والی غلطی کی سزا جرمانے کے طور پر گاڑیوں کے اصل مالکین کو مل رہی ہے ۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ چند افراد پولیس اور سی سی کیمروں کو بھی دھوکہ دینے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ شہر کے کئی پولیس اسٹیشنس کو اسطرح کے دغا بازی کی شکایتیں وصول ہورہی ہیں اور پولیس ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنی خصوصی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ پولیس نے انسداد ٹریفک حادثات اور ٹریفک قانون و قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پہلے ہیلمیٹ ڈرئیو شروع کیا گیا ، جگہ جگہ پولیس روک کر ہیلمیٹ نہ پہننے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر چالانات عائد کررہی ہے ۔ ساتھ ہی جگہ جگہ سی سی کیمرے نصب کئے گئے ہیں ۔ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تصاویر کھینچ کر ان کے گھروں پر چالانات روانہ کئے جارہے ہیں ۔ ساتھ ہی ٹریفک پولیس ملازمین کو کیمرے بھی دئیے گئے ہیں ۔ وہ ٹریفک خلاف ورزی کرنے یا ہیلمیٹ نہ پہننے پر تصویر کھینچ کر گھر کے پتے پر چالان روانہ کررہے ہیں ۔ اس سے بھی بات نہیں بنی تو پوائنٹ سسٹم کو متعارف کراتے ہوئے گاڑیاں چلانے والوں میں قانون کا خوف پیدا کرنے کی اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش بھی کی ہے ۔ لیکن قانون شکن افراد عادت سے مجبور ہوتے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں اور حیدرآباد میں ایسے کئی واقعات سامنے آرہے ہیں چند افراد پولیس اور سی سی کیمروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا حل ڈھونڈ لیا ۔ دوسروں کے گاڑیوں کے نمبرات اپنی گاڑی کو لگاتے ہوئے گاڑی چلا رہے ہیں ۔ ٹریفک قواعد کی وہ خلاف ورزی کررہے ہیں اور چالانات گاڑیوں کے اصل مالکین کو پہونچ رہے ہیں ۔ چکڑ پلی کے رہنے والے پی پرتاپ نے سال 2005 میں بجاج پلسر گاڑی خریدی تھی اور گاڑی کا رجسٹریشن کرانے پر انہیں AP09AZ-1071 نمبر دستیاب ہوا تھا ۔ فی الحال یہ گاڑی ان کے رشتہ دار چلا رہے ہیں ۔ 8 اگست کو یوسف گوڑہ چک پوسٹ پر رانگ روٹ میں گاڑی چلانے پر 1100 روپئے اور دوسرے چارجس 35 روپئے ادا کرنے کا مالک گاڑی کے فون پر میسیج وصول ہوا اور ٹریفک پولیس ویب سائیٹ پر پوسٹ کی گئی تصویر دیکھ کر سرینواس حیران رہ گئے ۔ کیوں کہ کوئی اور ان کے گاڑی کا نمبر بجاج ڈسکور کو لگاتے ہوئے چلانے کی نشاندہی ہوئی ۔ جس پر گاڑی کے حقیقی مالک نے اپنی گاڑی پولیس کو دکھاتے ہوئے اس کی شکایت کی اور ایک واقعہ میں الوال کی رہنے والی امارانی نے اپنے نام پر اپنے فرزند ایشور کو ہیرو گلیمر گاڑی چلائی جس کا رجسٹریشن نمبر TS10EM-1857 ہے ۔ 25 اگست کو کاچی گوڑہ میں ہیلمیٹ کے بغیر گاڑی چلانے کے لیے 100 روپئے اور دوسرے چارجس 35 روپئے کا چالان انہیں وصول ہوا جب کہ ایشور نے اس دن کاچی گوڑہ گیا ہی نہیں تھا ۔ ویب سائیٹ فوٹو دیکھنے پر وہ بھی حیران رہ گیا کیوں کہ کوئی دوسرا شخص اسپیلنڈر کو اس کا نمبر لگاتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا ۔ اس طرح کے کئی شکایتیں پولیس کو وصول ہورہی ہیں اور پولیس بھی ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔۔