ٹرمپ کے ناقدین کی سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ

واشنگٹن،24جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سی آئی اے کے سابق ڈائرکٹر جان برینن اور اوباما دور کی انتظامیہ میں شامل بعض ناقدین کی سکیورٹی کلیرینس واپس لینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس سلسلے میں انٹلیجنس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور قومی سلامتی کے سابق سربراہان کے نام جاری کئے ہیں۔پریس سکریٹری سارہ سینڈرز کا کہنا تھا کہ ان افراد نے اپنے ملازمتوں سے سیاسی فائدے اٹھائے اور صدر ٹرپ کے خلاف ‘بے بنیاد الزامات’ عائد کئے ۔لیکن ان میں سے کم از کم دو کی سیکورٹی کلیرینس باقی نہیں رہی۔پیر کو کی جانے والی نیوز کانفرنس میں سارہ سینڈز نے جن افراد کے نام لیے ان میں: جیمز کومی- سابق ایف بی آئی ڈائرکٹر،اینڈریو مک کیب- سابق ایف بی آئی ڈپٹی ڈائرکٹر، جیمز کلیپر- سابق ڈائرکٹر قومی انٹلیجنس، سوزن رائس- سابق مشیر قومی سلامتی،مائیکل ہیڈن- سابق ڈائرکٹر قومی سلامتی ایجنسی شامل ہیں۔ امریکہ میں سکیورٹی کلیرنس کے حامل افراد کو ملک کے تمام خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔انھوں نے صحافیوں کے ان سوالات سے انکار کیا کہ کیا ڈیمو کریٹک اور رپبلکن دونوں ادوار میں آزادی اظہار کا حق استعمال کرنے والے ان سابق اہلکاروں کو صدر سزا دینا چاہتے ہیں؟پریس سکریٹری کے مطابق صدر ٹرمپ کو یہ بات پسند نہیں کہ لوگ ایسے عہدوں اور محکموں کا سیاسی استعمال کریں جنہیں غیر سیاسی ہونا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کلیرنس کی موجودگی ان افراد کے الزامات کو بغیر شواہد کے ایک نامناسب قانونی حیثیت دے دیتی ہے ۔

امریکی عدالت کی پناہ گزینوں کے تحفظ پر عائد پابندی کے خلاف مقدمہ کو منظوری
بوسٹن، 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وفاقی ضلعی عدالت نے پیر کو امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ کے ہونڈوراس، ہیٹی اور ال سلواڈور کے پناہ گزینوں کو عارضی تحفظ دینے پر روک لگانے والے احکامات کومسترد کر دیا اور پناہ گزینوں کو عارضی تحفظ پر عائد پابندی کے خلاف مقدمے کو منظوری دے دی۔
امریکہ کے بوسٹن میں ضلع جج ڈینس کاسپر نے اپنے فیصلہ میں کہا پناہ گزینوں کے گروپ اور دو غیر امداد یافتہ تنظیم امریکی انتظامیہ کے تینوں ممالک کے ہزاروں لوگوں کے تحفظ پر روک لگانے والے حکم کے خلاف مقدمے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔