ٹرانس ایشیاء طیارہ حادثہ کی ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی

تائیپی ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ٹرانس ایشیاء ایرویز کے حادثہ کا شکار طیارہ کے ملبہ اور 12 لاپتہ مسافرین کی نعشوں کے حصول کیلئے کرین کا استعمال کیا جارہا ہے۔ حادثہ کے وقت طیارہ میں 58 افراد سوار تھے جن میں 16 مسافرین کا تعلق چین سے تھا۔ تائیپی سے کل ٹیک آف کرنے کے فوری بعد طیارہ ایک شاہراہ کے پل پر انتہائی نیچے کی جانب آ گیا اور اس کا رخ بالکل ٹیڑھا ہوگیا اور دریائے کیلنگ میں جاگرا ۔ بچاؤ کاری میں مصروف افراد نے کل دن کے اوقات میں طیارہ کے ملبہ سے 15 مسافروں کو زندہ باہر نکال لیا۔ دریائے کیلنگ زیادہ گہرا نہیں ہے۔ تاہم رات کے اوقات میں انہیں کرین کا استعمال کرنا پڑا۔ طیارہ کے غرقاب حصہ کی تلاشی لینے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء مختلف کاروں سے طیارہ کے حادثہ کی لی گئی ویڈیو فوٹیج کو کئی ویب سائیٹس پر دیکھا جارہا ہے۔

یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ پائلٹ نے جب دیکھا کہ طیارہ میں تکنیکی خرابی ہے اور وہ ٹیڑھا ہوکر دریا کی جانب جارہا ہے تو اس نے حاضردماغی سے کام لیتے ہوئے طیارے کے پروں کو مزید ٹیڑھا کردیا تاکہ قریب میں موجود اونچی عمارتوں سے تصادم کو روکا جاسکے اور اس میں پائلٹ کامیاب بھی ہوگیا۔ تاہم تائیوان کی ہوا بازی صنعت کا کہنا ہیکہ ایسے کوئی ثبوت نہیں پائے گئے۔ تائیوان کے براڈ کاسٹر پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہوئی آخری بات چیت کی ریکارڈنگ کو بار بار دہرا رہے ہیں جہاں پائلٹ نے ’’خطرہ‘‘ کو محسوس کرتے ہوئے خطرہ کی علامت ’’مے ڈے‘‘ تین بار کہا تھا۔ فی الحال کئی کشتیوں اور غوطہ خوروں کی مدد سے نعشوں کو تلاش کیا جارہا ہے۔

پائلٹ اور معاون پائلٹ کے علاوہ مزید کچھ نعشوں کے ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی۔ ہوا بازی کے ماہرین نے پائلٹ کی حاضردماغی کی ستائش کی ہے جس نے طیارہ کو ایک ایسی پوزیشن دی جس کے بعد وہ فلک بوس عمارت سے ٹکرانے سے بچ گیا۔ ورنہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی تھی۔ دریں اثناء بچ جانے والے افراد کے رشتہ داروں کے درمیان بھی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں کشتیوں کے ذریعہ انہیں کنارے تک پہنچایا گیا۔ طیارہ میں کچھ مسافرین نے آپس میں نشستوں کا تبادلہ کرلیا تھا اور یہ بدقسمتی ہی کہی جائے گی کہ طیارہ کے سب سے زیادہ نقصان پہنچنے والے حصہ میں بیٹھے ہوئے مسافرین ہلاک ہوگئے۔