شکایتوں کی وصولی پر تحقیقات ، حکومت تلنگانہ کو رپورٹ کی پیشکشی ، جناب عابد رسول خاں چیرمین اقلیتی کمیشن کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/14اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاستی اقلیتی کمیشن نے اوقافی اداروں کے مختلف معاملات میں بے قاعدگیوں سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے کے بعد 16اوقافی اداروں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا پتہ چلایا ہے۔ کمیشن ان اداروں میں پائی گئی آمدنی میں بے قاعدگیوں اور وقف اراضی کی غیر قانونی منتقلی جیسے معاملات کے پس منظر میں وقف بورڈ کے اُمور کی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف اوقافی اداروں کے بارے میں کمیشن کو موصولہ شکایات اور تحقیقات کے دوران ان میں پائی گئی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا۔ انہوں نے تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سفارش کی کہ گذشتہ 28برسوں کے دوران وقف بورڈ کے تمام اہم فیصلوں کی سی بی آئی یا پھر ہائی کورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں حکومتیں کمیشن کی سفارشات کو قبول نہیں کریں گی تو وہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے کیونکہ سپریم کورٹ نے ہی وقف اُمور کی تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔عابد رسول خاں نے بتایا کہ 2007ء میں سپریم کورٹ نے محمدیہ کوآپریٹیو بلڈنگ سوسائٹی وجئے واڑہ کے معاملہ میں وقف بورڈ کے 22برسوں کے معاملات کی جانچ کی ہدایت دی تھی لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو چھ برس گذر چکے ہیں لہذا کمیشن نے 28برسوں کے اہم فیصلوں کی جانچ کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ اور اوقافی آمدنی کے منشائے وقف کے مطابق استعمال کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔صدر نشین اقلیتی کمیشن نے بتایا کہ اسپیکر اسمبلی اور صدرنشین قانون ساز کونسل کے علاوہ اپوزیشن قائدین کو بھی اقلیتی کمیشن مکمل شواہد اور ثبوت کے ساتھ اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاکہ انہیں حقائق سے آگہی ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدگی کا اظہار کرنے والی دونوں ریاستی حکومتیں کمیشن کی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے سی بی آئی یا پھر برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کو اوقافی جائیدادوں میں بے قاعدگیوں سے متعلق کئی شکایات وصول ہوئی ہیں۔ کمیشن کو تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ درج اوقاف جائیدادوں پر بھی نہ صرف منظم انداز میں قبضے کئے گئے بلکہ لینڈ گرابرس، رئیل اسٹیٹ تاجروں اور بعض سرکاری اداروں کی جانب سے ان کا بیجا استعمال کیا گیا۔ یہ وقف بورڈ پر مناسب کنٹرول کی کمی اور عہدیداروں و متولیوں کی ملی بھگت کے باعث ممکن ہوسکا۔اقلیتی کمیشن نے گذشتہ ایک برس کے دوران 60 جائیدادوں کی شکایات کے باوجود صرف16 شکایات کی تحقیقات کی جن میں مکہ مدینہ علاء الدین وقف، یتیم خانہ فیض الاسلام وقف، درگاہ حضرت غالب شہید ؒ وجئے واڑہ، معین منزل گن فاؤنڈری، مسلم میٹرنٹی ہاسپٹل وقف اراضی، مجلس دستی پارچہ بافی حرمین شریفین، ٹولی مسجد و درگاہ درویش محی الدین ؒ کاروان، نبی مولوی اکبر، حسام الدارین ٹرسٹ، پنجہ عاشور خانہ ڈون منڈل، درگاہ ملنگ شاہ بابا ؒ لنگر حوض، درگاہ حضرت حکیم شاہ باباؒ حکیم پیٹ، خطہ صالحین نامپلی، درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ منی کونڈہ، درگاہ حضرت مخدوم بیابانی ؒ چیوڑلہ اور سابق سی ای او وقف بورڈ کے خلاف بے قاعدگیوں کی شکایات شامل ہیں۔ عابد رسول خاں نے بتایا کہ ریاستی اسمبلی کی اوقاف سے متعلق ایوان کی کمیٹی اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں ذمہ دار قابضین کے علاوہ ان سے ملی بھگت رکھنے والے وقف عہدیداروں، متولیوں اور درمیانی افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے لہذا کمیشن 16اداروں کے معاملات کی سی بی آئی تحقیقات کی مانگ کرتا ہے۔ کمیشن نے 19اگسٹ کو ہونے والے تلنگانہ کے جامع سروے کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی کہ وہ اُردو داں طبقہ کیلئے اُردو میں فارم فراہم کرے۔ اُردو تلنگانہ کے 9اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے اور آبادی کا 35فیصد حصہ اُردو داں ہیں۔ انہوں نے اُردو فارمس کے علاوہ اُردو میں خانہ پُری کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت سے خواہش کی کہ وہ ویب سائٹ پر انگریزی اور تلگو کے ساتھ اُردو فارم کو بھی اپ لوڈ کریں جسے روز نامہ ’سیاست‘ اور دیگر اداروں نے تیار کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں کمیشن کے ارکان سرجیت سنگھ اور گوتم جین موجود تھے۔