ویمن پولیس اسٹیشن گھانسی بازار میں 100 دن میں دفعہ 498 کے تحت 64 مقدمات

حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : پرانا شہر میں تعلیم کی کمی اور غربت کے باعث میاں بیوی کے تنازعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ایسے میں خاندان کے بزرگ اور مذہبی اداروں سے وابستہ افراد ، علماء ، ازدواجی زندگیوں کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ویمن پولیس اسٹیشن گھانسی بازار کی انسپکٹر بی رجیتا ریڈی نے بتائی ۔ شہر میں خواتین کے تین پولیس اسٹیشن میں سے گھانسی بازار مصروف ترین پولیس اسٹیشن مانا جاتا ہے ۔ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ جی رجیتا ریڈی اس پولیس اسٹیشن پر تعیناتی سے قبل نلگنڈہ میں خدمات انجام دے چکی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 کے ابتدائی 100 دنوں میں دفعہ 498 کے تحت 64 مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ ویمن پولیس اسٹیشنوں کو اس بات کی ہدایت ہے کہ پولیس اسٹیشن آنے والے جوڑوں کی پہلے اسٹیشن میں کونسلنگ کی جائے ،

عدم اتفاق کی صورت میں شہر میں کام کررہی غیر سرکاری تنظیموں سے ان کی کونسلنگ کروائی جائے ۔ کلکٹر آفس میں بھی آپس میں لڑائی جھگڑے کرنے والے جوڑوں کی کونسلنگ کا ایک علحدہ سیل کام کررہا ہے ۔ اس پولیس اسٹیشن میں تعیناتی کے بعد ہر خاتون انسپکٹر کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ ان جوڑوں کی کونسلنگ ضروری ہے ورنہ دفعہ 498 کے تحت مقدمات درج کرنے سے عداوت بڑھ جاتی ہے ۔ انسپکٹر نے مزید بتایا کہ میاں بیوی کے زیادہ تر جھگڑے بھوانی نگر ، تالاب کٹہ اور چندرائن گٹہ میں پیش آتے ہیں اور یہاں کی خواتین غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہوتی ہیں ۔ اکثر واقعات میں خواتین اپنے شوہروں سے علحدگی اختیار کرنے کی خواہاں رہتی ہیں ۔ دوران بات چیت ایک خاتون وہاں پہونچ کر انسپکٹر کو بتایا کہ ان کی شادی 2010 میں ہوئی تھی ۔ شادی کے 6 ماہ بعد شوہر سعودی عرب چلا گیا اور واپس ہوکر طلاق دے دی ۔ اس خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر نے سارا جہیز بہن کی شادی میں پیش کردیا ۔ 6 لاکھ روپئے کے مطالبہ پر صرف 2.5 لاکھ روپئے پر سٹلمنٹ ہوا جو میرے اور بچے کے لیے کافی نہیں ہے ۔

انسپکٹر پولیس نے بتایا کہ اس طرح کے شکایات لے کر ہر روز کئی خواتین پولیس اسٹیشن پہنچ جاتی ہیں ۔ گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے دفعہ 498A کا بے تحاشہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس دفعہ کے بارے میں مظلوم خواتین اور مظلوم مردوں کا کہنا ہے کہ جھوٹے مقدمات دائر کرنے کے لیے 498A کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے ۔ حال ہی میں پروگریسیو آرگنائزیشن فار ویمن کی ایک قومی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ خواتین کو اس قانون کے مطابق انصاف نہیں مل رہا ہے جب کہ ظالم شوہر اور ظلم ڈھانے والے سسرالی رشتہ دار آزاد رہتے ہیں ۔ بہر حال طلاق کے واقعات کو روکنے کے لیے علماء اور خاندان کے بزرگ اہم رول ادا کرتے ہیں۔علماء اور خاندان کے بڑے بزرگ میاں بیوی میں صلح کرواتے ہوئے ایک خاندان کو ٹوٹنے بکھرنے سے بچا سکتے ہیں ۔ پرانے شہر کے اس واحد پولیس اسٹیشن میں تعینات اسٹاف اردو سے ناواقف ہے ۔ ان حالات میں شکایت کنندوں کی شکایت کی سماعت کرنے میں مشکلات پیش آنی لازمی ہے ۔ لہذا کمشنر پولیس یہاں اردو سے واقف عملہ کو تعین کرتے ہوئے اس کمی کو دور کرسکتے ہیں ۔ کیوں کہ کوئی بھی عہدیدار اس وقت اقدامات کرسکتا ہے جب وہ شکایت کو اچھی طرح سمجھے ۔۔