ڈی ایکس این کمپنی سے 200 تا 250 کروڑ کی سرمایہ کاری کا اعلان
حیدرآباد۔17اپریل(سیاست نیوز) ونپرتی میں DXNفوڈ پروسیسنگ یونٹ کے قیام کیلئے کمپنی نے 200تا250کروڑ کی سرمایہ کاری کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد ریاست تلنگانہ میں DXN کمپنی کا یہ دوسراپراجکٹ ہوگا۔ ریاستی وزیر زراعت مسٹر ایس نرنجن ریڈی نے ملیشیاء میں کمپنی کے ذمہ داروں سے بات چیت کے بعد اس بات کا انکشاف کیا کہ ریاست تلنگانہ میں زرعی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے ریاست کو فائدہ مند ریاست کے طور پر پیش کرنے میں حکومت تلنگانہ کامیاب ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں DXNکمپنی نے ریاست میں اپنے دوسرے پراجکٹ کیلئے 250کروڑ تک کی سرمایہ کاری کیلئے حامی بھر لی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں ملیشیاء سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی نے ونپرتی میں اپنے دوسرے مرکز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ علاقہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے قریب واقع ہے ۔ ریاستی وزیر زراعت نے بتایا کہ ریاست میں سرمایہ کاری مواقع کو چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اجاگر کرتے ہوئے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست میں بیرونی سرمایہ کار اپنے سرمایہ کو محفوظ تصور کریں اور عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی جانب سے بھی ریاست تلنگانہ کو سرمایہ کاری کیلئے ترجیح دی جا رہی ہے جس کی مثال DXN کا دوسرا مرکز کھلنے جا رہا ہے اور اس مرکز کے آغاز کی صورت میں علاقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بہترین روزگار حاصل ہونے کی قوی توقع ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل DXNنے ریاست کے ضلع سدی پیٹ میں فوڈ پروسیسنگ یونٹ کے قیام کو یقینی بنایا اور اس پلانٹ کو منظم انداز میں چلایا جا رہاہے اور اب اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست کے دیگر مقاما ت پربھی اس طرح کے مراکز کا آغاز کیا جائے۔ مسٹر ایس نرنجن ریڈی ریاستی وزیر زراعت نے ملیشیائی کمپنی DXNکے ذمہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے فوائد اور تلنگانہ کے بازاروں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی کہ وہ ریاست میں مزید سرمایہ کاری کو یقینی بنائیں تاکہ ریاست میں عالمی سرمایہ کاری میں اضافہ کے علاوہ کمپنی کو نیا مارکٹ دستیاب ہو جہاں کمپنی اپنی پیدا وار کی کھپت کو یقینی بنا سکیں۔ریاستی وزیر زراعت جو کہ ملیشیاء کے دورہ پر ہیں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی سمت تجارتی و صنعتی گھرانوں کو راغب کرنے کے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔