وقف بورڈ کی تقسیم کے عمل کو جلد مکمل کرنے کا تیقن

حیدرآباد۔ 18 ۔ فروری (سیاست نیوز) مرکزی وزارت اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کی تقسیم کے اقدامات جلد مکمل کرنے کا تیقن دیا۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں مرکزی عہدیداروں کی ٹیم نے آئندہ ماہ مارچ کے اختتام تک وقف بورڈ کو دونوں ریاستوں میں تقسیم کردینے کا تیقن دیا ہے۔ اس مسئلہ پر سکریٹری وزارت اقلیتی امور ڈاکٹر اروند مایارام کی قیادت میں چار رکنی ٹیم حیدرآباد پہنچی جس میں جوائنٹ سکریٹری راکیش موہن، انڈر سکریٹری پی کے شرما اور سکریٹری سنٹرل وقف کونسل علی احمد خاں موجود تھے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ سید عمر جلیل، انچارج سکریٹری اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود تلنگانہ محمد جلال الدین اکبر، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ سلطان محی الدین کے ساتھ مرکزی ٹیم کا دو گھنٹے تک اجلاس جاری رہا جس میں وقف بورڈ کی تقسیم سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کی تقسیم کے سلسلہ میں ایک فارمولہ پیش کیا گیا جس کی بنیاد پر دونوں حکومتوں نے اپنی تجاویز پیش کی۔ بیشتر امور پر دونوں ریاستوں کے درمیان اتفاق رائے پایا گیا۔ تاہم بعض مسائل پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، جن کی یکسوئی کیلئے دونوں حکومتوں کو مہلت دی گئی ہے۔ اندرون ایک ہفتہ اس سلسلہ میں مسائل کی یکسوئی کرتے ہوئے مرکز کو اطلاع دی جائے گی۔ مرکزی ٹیم نے وقف بورڈ کے اثاثہ جات اور رقومات کی مسلم آبادی کی بنیاد پر دونوں ریاستوں میں تقسیم کی ہدایت دی۔ تلنگانہ میں مسلم آبادی 38.53 فیصد اور آندھراپردیش میں 31.34 فیصد ہے۔ اس اعتبار سے علی الترتیب 55.15 فیصد اور 44.85 فیصد کے تناسب سے اثاثہ جات تقسیم کئے جائیں گے۔ ملازمین کی تقسیم بھی اسی بنیاد پر عمل میں آئے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ وقف بورڈ میں تلنگانہ کے ڈپازٹ 8 کروڑ کے ہیں جبکہ آندھراپردیش کے ڈپازٹ 40 کروڑ کے ہیں۔ حج ہاؤز اور اس سے متصل زیر تعمیر کامپلکس میں آندھراپردیش حکومت نے اپنی حصہ داری کا دعویٰ پیش کیا۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ جو رقم آندھراپردیش کی تعمیری کاموں میں استعمال کی گئی ہے، اسے واپس کردیا جائے۔ دونوں ریاستوں کا اوقافی ریکارڈ اضلاع کی بنیاد پر منقسم کردیا جائے گا، تاہم مشترکہ جائیدادوں کے سلسلہ میں ریکارڈ کی کاپی دونوں ریاستوں کے پاس موجود رہے گی۔

حج ہاؤز سے متصل کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں درگاہ حضرت اسحق مدنیؒ وشاکھاپٹنم کی رقم استعمال کی گئی تھی۔ دونوں ریاستوں کے عہدیداروں نے وقف بورڈ کے کرنٹ اکاؤنٹ میں موجود تین کروڑ روپئے کی تقسیم آبادی کے تناسب سے کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ وہ اندرون ایک ہفتہ مرکز کو رپورٹ پیش کردیں گے جس کے بعد وقف بورڈ کی تقسیم سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ حج ہاؤز کی عمارت کے آئندہ دس برسوں تک آندھراپردیش کو استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ دونوں ریاستوں کے دلائل کی سماعت کے بعد مرکزی ٹیم نے اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈپٹی ڈائرکٹر نیشنل ریموٹ سینسنگ ایجنسی نے اوقافی جائیدادوں کے سروے میں استعمال ہونے والی سیٹلائیٹ ٹکنالوجی کے بارے میں مرکزی ٹیم کو واقف کرایا۔ ڈاکٹر اروند مایا رام نے ایجنسی کو مشورہ دیا کہ وہ پائلٹ پراجکٹ کے طورپر رپورٹ پیش کرے تاکہ اسے دونوں ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں کے سروے کیلئے استعمال کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کی جانب سے 12 تا 15 کروڑ روپئے کی دعویداری پیش کی گئی اور یہ رقم تلنگانہ حکومت نے ادا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ مرکزی ٹیم کو دونوں ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات حوالے کی گئیں۔