وقف بورڈ کی تقسیم کے عمل میں پیشرفت ، عنقریب دو ریاستوں میں تقسیم

ڈاکٹر اروند مایارام کا تلنگانہ و اے پی ریاستوں کے اقلیتی بہبود عہدیداروں کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست نیوز) مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے وقف بورڈ کی تقسیم کے عمل میں پیشرفت کی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد وقف بورڈ دونوں ریاستوں میں منقسم ہوجائے گا۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے سکریٹری ڈاکٹر اروند مایا رام نے آج حیدرآباد میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود آندھرا پردیش شیخ محمد اقبال، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود تلنگانہ محمد جلال الدین اکبر، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ سلطان محی الدین اور دوسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اروند مایا رام نے وقف بورڈ کی تقسیم کے مختلف مراحل اور تازہ ترین صورتحال سے عہدیداروں کو واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کے سلسلہ میں مرکز نے دونوں ریاستوں سے جو اعتراضات طلب کئے تھے اس کا ابھی تک جواب نہیں ملا جس کے باعث وقف بورڈ کی تقسیم میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کی جانب سے اعتراضات فوری طور پر روانہ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ مرکز جلد از جلد وقف بورڈ کی تقسیم کے احکامات جاری کرسکے۔ گزشتہ دورہ حیدرآباد کے موقع پر مرکزی ٹیم نے وقف بورڈ کی تقسیم کے بارے میں تمام تفصیلات حاصل کرلی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں کو تقسیم کے بارے میں اپنے اعتراضات فوری طور پر روانہ کرنے چاہیئے۔ ڈاکٹر اروند مایا رام نے دائرۃ المعارف میں موجود نادر اور نایاب کتب کے تحفظ سے متعلق پراجکٹ کی منظوری کا بھی تیقن دیا۔ اس پراجکٹ کے تحت عربی اور فارسی میں موجود نادر کتابوں کا نہ صرف تحفظ کیا جائے گا بلکہ ان کے انگریزی ترجمے کئے جائیں گے تاکہ ریسرچ اسکالرس کو مدد مل سکے۔ ضرورت پڑنے پر ان کتابوں کے انگریزی تراجم شائع کئے جائیں گے۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے اس پراجکٹ کیلئے 30کروڑ روپئے کی منظوری سے اتفاق کیا ہے۔ ڈائرکٹر دائرۃ المعارف پروفیسر مصطفی شریف کو اس سلسلہ میں پراجکٹ رپورٹ جلد روانہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے اوقافی جائیدادوں کے نیشنل ریموٹ سینسنگ ایجنسی کے ذریعہ سروے سے متعلق تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ کے ذریعہ سروے کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی اور تحفظ میں مدد ملے گی۔ سروے کے بعد تمام جائیدادوں کو گوگل پر پیش کیا جاسکتا ہے تاکہ دنیا کے کسی بھی حصہ سے اوقافی جائیدادوں کی موجودہ صورتحال سے عوام واقف ہوسکیں۔ اس پراجکٹ کی تکمیل سے ناجائز قبضوں کو باآسانی روکا جاسکتا ہے۔ سکریٹری وزارت اقلیتی اُمور حکومت ہند نے اس پراجکٹ کی منظوری اور ضروری بجٹ کی اجرائی سے اصولی طور پر اتفاق کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی تقسیم سے متعلق آندھرا پردیش کی تجاویز اور اعتراضات سے متعلق فائیل چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے پاس روانہ کی گئی ہے جبکہ تلنگانہ کے ایک عہدیدار ابھی رپورٹ کی تیاری میںمصروف ہیں۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کلکٹرس کانفرنس میں شرکت کے سبب ڈاکٹر اروند مایا رام کے اجلاس میں شرکت نہ کرسکے۔