وقف بورڈ کی تقسیم کا مسئلہ ، مرکزی ٹیم کی آمد

تلنگانہ و آندھرا پردیش کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/17فبروری، ( سیاست نیوز) مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے عہدیداروں کی چار رکنی ٹیم آج حیدرآباد پہنچ گئی جو وقف بورڈ کی تقسیم کے مسئلہ کا جائزہ لینے کیلئے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے سکریٹری ڈاکٹر اروند مایا رام، جوائنٹ سکریٹری راکیش موہن اور انڈر سکریٹری وقف پی کے شرما کے علاوہ سکریٹری سنٹرل وقف کونسل علی احمد خاں18 فبروری کو تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے سکریٹریز برائے اقلیتی بہبود کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے۔ اس اجلاس میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور شرکت کریں گے۔ وقف بورڈ کی تقسیم کیلئے دونوں ریاستوں کی منظوری درکار ہے اسی سلسلہ میں مرکزی ٹیم حیدرآباد پہنچی ہے۔ دونوں ریاستوں نے وقف بورڈ عاجلانہ تقسیم کیلئے مرکز سے درخواست کی تاکہ علحدہ وقف بورڈ تشکیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ صبح 10:30تا دوپہر تک مرکزی ٹیم کے ساتھ دونوں ریاستوں کے عہدیداروںکا اجلاس منعقد ہوگا جس میں دونوں ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں، ان کے موجودہ موقف، ناجائز قبضوں اور آمدنی سے متعلق پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا جائے گا۔ مرکزی ٹیم سے مختلف مرکزی اسکیمات کے سلسلہ میں بھی مشاورت کا امکان ہے۔ وزارت اقلیتی اُمور کی اس ٹیم کی رپورٹ کے بعد ہی مرکزی حکومت وقف بورڈ کی تقسیم کے اقدامات کرے گی۔ وقف بورڈ کی تقسیم کے سلسلہ میں کئی دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ وقف بورڈ میں ملازمین کی تعداد اس قدر نہیں کہ تقسیم کرنے کی صورت میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ ملازمین کی تقسیم کی صورت میں بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں ملازمین کی قلت پیدا ہوجائے گی جب تک دونوں حکومتیں نئے عہدیداروں اور ملازمین کے تقرر کو یقینی نہیں بناتیںاس وقت تک اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ممکن نہیں ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے عہدیدار اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے سلسلہ میں مرکز سے تعاون کیلئے نمائندگی کریں گے۔ مرکزی عہدیداروں کی ٹیم توقع ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بھی ملاقات کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے حالیہ دورہ دہلی اور مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ سے ملاقات کے موقع پر مرکزی عہدیداروں کو حیدرآباد روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔