4 منتخب ارکان کی میعاد ختم، چیف منسٹر موجودہ صدرنشین کی برقراری کے حق میں
حیدرآباد۔ 25 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تحلیل یا برقراری کا معاملہ قانونی کشاکش کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے موجودہ صورتحال میں ماہرین قانون اور لا ڈپارٹمنٹ سے رائے طلب کی ہے تاکہ بورڈ کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ لیا جاسکے۔ آئندہ چند دنوں میں حکومت اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرنا ہوگا کیوں کہ موجودہ صدرنشین کی قانون ساز کونسل کی رکنیت 29 مارچ کو ختم ہورہی ہے۔ ان کے علاوہ 3 دیگر ارکان ایسے ہیں جو عملاً بورڈ کے رکن برقرار نہیں ہیں۔ ایسے میں حکومت کیا چار نئے ارکان کا انتخاب کرے گی؟ یا پھر بورڈ کو مکمل طور پر تحلیل کرتے ہوئے ازسرنو تشکیل دیا جائے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کے علاوہ دیگر تین منتخبہ ارکان جن کی میعاد بورڈ میں ختم ہوچکی ہے ان میں اسد اویسی، معظم خان اور ذاکر حسین جاوید شامل ہیں۔ رکن پارلیمنٹ زمرے میں منتخب اسد اویسی کی میعاد لوک سبھا انتخابات کے اعلامیہ کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ جبکہ رکن اسمبلی زمرے میں منتخب معظم خان کی میعاد اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی ختم ہوچکی تھی۔ اور وہ دوبارہ منتخب ہوئے تاہم حکومت میں تاحال انہیں بورڈ کا رکن منتخب نہیں کیا۔ بار کونسل کے زمرے میں اس مرتبہ دو مسلم وکلاء کامیاب ہوئے ہیں اور حکومت نجے ان میں سے کس کو بورڈ میں شامل کرنا ہے اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس طرح منتخب زمرے کے چار ارکان کو دوبارہ منتخب کرنا پڑے گا۔ اب جبکہ صدرنشین وقف بورڈ کی کونسل کی رکنیت ختم ہورہی ہے، انہیں صدرنشین کے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے قانونی رائے حاصل کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے یہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے محمد سلیم کو عہدے پر برقراری کا یقین دلایا ہے۔ اب یہ قانونی سائے پر منحصر ہے محمد سلیم کو کس زمرے میں بورڈ کی رکنیت دے کر صدرنشین کے عہدے پر فائز کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف ایکٹ کے مطابق منتخب رکن کی صدارت پر فائز ہونے کی اہمیت رکھتے ہیں جبکہ نامزد ارکان کو صدارت پر فائز نہیں کیا جاسکتا۔ بورڈ کے دیگر منتخب ارکان میں متولی زمرے سے مولانا اکبر نظام الدین اور منیجنگ کمیٹی زمرے سے مرزا انوار بیگ شامل ہیں۔ ٹی آر ایس کے بعض گوشوں کی جانب سے صدارت کے لیے انوار بیگ کے نام کی سفارش کی جارہی ہے۔ بورڈ کے نامزد ارکان میں ملک معتصم خاں، ڈاکٹر نثار حسین حیدر آغا، وحید احمد ایڈوکیٹ، تفسیر اقبال آئی پی ایس اور ڈاکٹر صوفیہ بیگم شامل ہیں۔