وقف بورڈ میں ای فائلنگ کا آغاز، ہر فائل آن لائین ہوجائے گی

درخواستوں اور نمائندگیوں کی بروقت یکسوئی، متولی اور کمیٹیوں کے لیے آن لا ئین پروفارما
وقف بورڈ میں اصلاحات کے لیے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہ نواز قاسم آئی پی ایس کی مساعی
حیدرآباد۔20 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کو کمپیوٹر سے مربوط کرتے ہوئے عصری سہولتوں سے آراستہ ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہ نواز قاسم آئی پی ایس نے اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ حکومت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ ای فائلنگ کے کام کا آغاز ہوچکا ہے اور وقف بورڈ کے دو سیکشنوں کی تمام فائلیں 15 دن میں کمپیوٹرائزڈ ہوجائیں گی۔ شاہ نواز قاسم نے وقف بورڈ کے ریکارڈ اور فائلوں کو کمپیوٹرائزڈ کرتے ہوئے محفوظ کرنے کے لیے 4 ماہ کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اس مدت میں تمام فائیلیں کمپیوٹرائزڈ ہوجائیں گے اور یہ آن لائین دستیاب ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ انورڈ اور آئوٹ ورڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جارہا ہے جس کے ذریعہ ہر درخواست یا نمائندگی آن لائین دستیاب رہے گی۔ اسکان کے ذریعہ نمائندگیوں اور درخواستوں کو محفوظ کیا جائے اور ان کی علیحدہ نمبرنگ ہوگی۔ درخواست گزار کو فون پر مسیج کے ذریعہ تازہ ترین موقف کی اطلاع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فائل اور درخواست کے موقف کو درخواست گزار گھر بیٹھے آن لائین دیکھ سکتا ہے۔ وقف بورڈ اسے یونک آئی ڈی نمبر فراہم کرے گا جس کے ذریعہ فائل موومنٹ کا پتہ چلے گا۔ شاہ نواز قاسم نے کہا کہ فائیل کس سیکشن میں ہے اس کا درخواست گزار کو بآسانی پتہ چل سکتا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ کے ذریعہ ہر سیشکن میں فائلوں کی آمد اور ان کی یکسوئی کی تفصیلات درج رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ای فائلنگ نظام سے بورڈ کی کارکردگی میں شفافیت اور بہتری پیدا ہوگی جوکہ ان کا اہم مقصد ہے۔ متولی اور منیجنگ کمیٹیوں سے متعلق تمام امور کو آن لائین رکھا جائے گا۔ شاہ نواز قاسم بہت جلد عوام کے لیے سوال جواب کا سیکشن رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وقف بورڈ کے سلسلہ میں تجاویز حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ قضات سیکشن سے میریج اور دیگر سرٹیفکیٹ آن لائین حاصل کیے جاسکیں گے۔ وہ قضات کے لیے علیحدہ ایپ تیار کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کے ذریعہ دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی بھی شخص اپنا سرٹیفکیٹ ضرورت پڑنے پر پیش کرسکتا ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ میں سرویس رولس کی تیاری اور ایڈمنسٹریٹیو گائیڈ لائنس پر توجہ مرکوز کی ہے۔ رکروٹمنٹ پالیسی اور دیگر امور کے سلسلہ میں سنٹر فار گوڈ گورننس کی ماہرین کی مدد لی جائے گی۔ شاہ نواز قاسم نے کہا کہ بورڈ میں ملازمین کی تعداد میں اضافے کے لیے حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی میں اضافہ کے لیے انکم جنریشن سروے کیا جائے گا جس سے ہر جائیداد کی آمدنی کا صحیح اندازہ قائم ہوسکتا ہے۔ سروے کے ذریعہ وقف بورڈ اپنی آمدنی کا بآسانی حساب کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو سروے میں وقف کی جو جائیدادیں غیر متنازعہ ثابت ہوئی ہیں، ان کے پاس بکس وقف بورڈ کے حق میں جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تولیت اور منیجنگ کمیٹی کے لیے ہر کسی کو درخواست کے ساتھ آن لائین پروفارما کی تکمیل کرنی ہوگی جس میں منیجنگ کمیٹی اور متولی کے کریمنل ریکارڈ، آمدنی اور دیگر تفصیلات شامل رہیں گی۔ آن لائین پروفارما کی تکمیل کے بعد انسپکٹر آڈیٹر سے رپورٹ طلب کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے امور میں کسی کی مداخلت اور دبائو کو وہ قبول نہیں کریں گے۔ شاہ نواز قاسم نے کہا کہ حیدرآباد میں ڈیولپمنٹ کے لیے 5 اراضیات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بیگم پیٹ کی ٹاسک فورس آفس کی اراضی شامل ہے۔ سنٹرل وقف کونسل کو پراجیکٹ رپورٹ روانہ کرتے ہوئے بلاسودی قرض حاصل کیا جائے گا۔