۔26 جون تک رپورٹ کی طلبی، کرمن گھاٹ کی 50 ایکر اراضی کے تحفظ میں وقف بورڈ کو کامیابی
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ نے حیدرآباد کے سرورنگر منڈل میں ایک قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سینئر سیول جج کو اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس رمیش رنگاناتھن اور جسٹس اوما دیوی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے وقف بورڈ کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا ۔ رنگا ریڈی کے ضلع جج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک سینئر سیول جج کے ذریعہ اراضی کا معائنہ کریں جو وقف بورڈ کے نمائندہ کی موجودگی میں کیا جائے۔ اراضی کے موجودہ موقف کے سلسلہ میں تصویر کشی کی جائے اور تفصیلی رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کی جائے ۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ڈیویژن بنچ اگلی سماعت میں کوئی فیصلہ سنائے گا۔ عدالت نے کہا کہ سیول جج کی رپورٹ کی پیشکشی تک جوں کا توں موقف برقرار رکھا جائے ۔ واضح رہے کہ درگاہ حضرت عنایت شاہ واقع کرمن گھاٹ سرور نگر منڈل نے 50 ایکر 8 گنٹہ اراضی سروے نمبرات 113 تا 120 کے تحت ہے۔ اس اراضی کے کرایہ داروں اور قول داروں نے تنازعہ پیدا کرتے ہوئے اپنی دعویداری پیش کی ۔ 2006 ء میں تلنگانہ وقف بورڈ نے اراضی کے سلسلہ میں گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جسے غیر مجاز قابضین نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کی تعطیلات سے قبل جسٹس ایم ایس رام چندر راؤ نے مقدمہ کی سماعت کے بعد وقف بورڈ کے گزٹ نوٹیفکیشن کو کالعدم کردیا تھا، جس کے خلاف وقف بورڈ نے ڈیویژن بنچ پر اپیل کی۔ کار گزار چیف جسٹس کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے سیول جج کے ذریعہ اراضی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سنگل جج کے احکام کو کالعدم کردیا۔ ڈیویژن بنچ کا فیصلہ وقف بورڈ کی اہم کامیابی تصور کیا جارہا ہے کیونکہ وقف بورڈ کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور سیول جج کے معائنہ کے دوران اراضی کو وقف ثابت کیا جاسکتا ہے۔ 26 جون تک ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کردی جائے گی اور اسی دن مقدمہ کی آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ اس قیمتی اراضی کے تحفظ کیلئے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر شاہنواز قاسم نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اسٹانڈنگ کونسل ایم اے مجیب کو مقدمہ کی ذمہ داری دی تھی ۔ ایم اے مجیب نے ڈیویژن بنچ پر وقف بورڈ کے موقف اور بورڈ میں موجود دستاویزای ثبوت کی تفصیلات سے واقف کرایا۔