وقف اراضیات کی فروختگی و قبضہ جات کیخلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

اقلیتی کمیشن کی رپورٹ پر اظہارتشویش، وی ہنمنت راؤ رکن راجیہ سبھا کا بیان
حیدرآباد ۔ 16 اگست (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے صدرنشین اقلیتی کمیشن مسٹر عابد رسول خان کی جانب سے وقف جائیدادوں کی فروختگی اور ناجائز قبضوں پر پیش کردہ رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اس کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا۔ مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ ایک مرتبہ وقف کی گئی اراضی یا جائیداد تا قیامت وقف ہوتی ہے اس کو فروخت کرنے یا ناجائز قبضے کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ راج شیکھر ریڈی کے دورحکومت سے وقف جائیدادیں فروخت کرنے کی شروعات ہوئی ہے۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن مسٹر عابد رسول خان نے وقف جائیدادوں تباہی، فروختگی اور ناجائز قبضوں کا سروے کرتے ہوئے ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے اور اس کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے جس کی وہ بھرپور تائید کرتے ہیں اور تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری اس کی سی بی آئی تحقیقات کرائے۔ اقلیتی کمیشن نے صرف چند وقف جائیدادوں کا سروے کرایا ہے جس پر 50 ہزار کروڑ روپئے کے قیمتی اراضیات کا غبن ہونے کا علم ہوا ہے۔ وہ پہلے دن سے وقف جائیدادوں کی فروختگی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور اس میں ذمہ دار رہنے والے تمام افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے اور وقف جائیدادیں واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور ریاستی وزیرمال مسٹر محمد محمود علی نے تمام سرکاری اراضیات کا سروے کرانے اور جن اراضیات پر قبضے ہوئے اس کو واپس لینے کا اعلان کیا جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں اور ساتھ ہی وقف جائیدادوں کا بھی سروے کرتے ہوئے اراضیات واپس لینے کی اپیل کرتے ہیں۔ اگر یہ قیمتی اراضیات واپس لی گئی تو بڑی حد تک مسلمانوں کی پسماندگی دور ہوگی۔ مسلم طلبہ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔ مسلم نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کیلئے سنجیدہ ہے تو پہلے اس پر کام کریں۔ وقف جائیدادوں کی فروختگی کیلئے جو بھی ذمہ دار ہیں انہیں جیل بھیج دیں۔