دھرنا اور بھوک ہڑتال کا اعلان، دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی کا بیان
حیدرآباد۔/13نومبر، ( راست ) ٹولی مسجد کی موقوفہ اراضی پر مبینہ طور پرناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف محکمہ اوقاف کی جانب سے ضلع کلکٹر حیدرآباد ، کمشنر پولیس، کمشنر جی ایچ ایم سی کو لینڈ گرابر کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے مراسلہ کے 52A وقف ایمنڈمنٹ ایکٹ 2013 کے ضمن میں کارروائی کرنے کیلئے 10 نومبر کو جاری کئے گئے مراسلہ کے باوجود مبینہ طور پر ناجائز تعمیر کئے جارہے شادی خانہ کے خلاف اور لینڈ گرابر کے خلاف ہنوز کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ متعلقہ محکمہ جات کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے کروڑ ہا روپئے کی قیمتی وقف جائیداد مبینہ طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ اس لاپرواہی کے خلاف مسرس سید عزیز پاشاہ سابق ایم پی سی پی آئی، عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی، سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ ،سید سلیم، محمد خاں ایڈوکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک جانب حکومت وقف جائیدادوں کے تحفظ کی باتیں کرتی ہے تو دوسری جانب وقف جائیدادوں کے سوداگروں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ قیمتی وقف جائیدادوں پر آج شہر اور اطراف میں مسلسل ناجائز قبضے کئے جارہے ہیں، ان ناجائز قابضین کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے لینڈ گرابرس کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ جن کے پاس وزارت اوقاف کا قلمدان بھی ہے ، مطالبہ کیا ہے کہ ٹولی مسجد کی کروڑہا روپئے کی وقف جائیداد کو بچانے کیلئے فوری مداخلت کریں ورنہ چند دن بعد لینڈ گرابرس مبینہ طور پر ساری وقف زمین پر قابض ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت اگر لینڈ گرابرس کے خلاف کارروائی سے گریز کرے گی تو تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون سے سخت احتجاجی دھرنا اور بھوک ہڑتال کے علاوہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔