وقار اور ساتھیوں کے نام مقدمہ سے حذف کرنے کی درخواست

ایس پی نلگنڈہ کے تبادلہ اور ذاکر کی جیل کو منتقلی پر سوالات

حیدرآباد ۔14 ۔ اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے ضلع نلگنڈہ کے آلیر میں مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے والے وقار احمد اور اس کے ساتھیوں کے مقدمات سے ناموں کو حذف کرنے کیلئے درخواست داخل کی ہے جبکہ ایک اور نوجوان شریک متوطن اترپردیش کو وقار کا ساتھی قرار دیتے ہوئے اسے مطلوب بتایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 14 مئی سال 2009 ء میں والگا ہوٹل حسینی علم کے قریب پیش آئے پولیس کانسٹبل رمیش قتل کیس میں ماخوذ وقار احمد ، سید امجد علی عرف سلیمان ، محمد ذاکر ، ڈاکٹر حنیف اور اظہار خان جنہیں 7 اپریل کو ضلع نلگنڈہ میں انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا ہے کہ ناموں کو حذف کرنے اور مزید دو ملزمین محمد ریاض خان اور محمد عبدالسعید کے خلاف مقدمہ کی کارروائی چلانے کی گزارش کی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی درخواست میں یہ بتایا کہ کانسٹبل کے قتل کیس کا ایک اور ملزم شریک متوطن اترپردیش ہنوز لاپتہ ہے۔کانسٹبل قتل کیس کے سلسلہ میں ورنگل سنٹر جیل سے حیدرآباد نامپلی کورٹ کو منتقلی کے دوران وقار اور اس کے چار ساتھیوں کا مبینہ فرضی انکاؤنٹر کردیا گیا ۔ ایس آئی ٹی نے اپنی درخواست کے ساتھ ضلع نلگنڈہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی ایک رپورٹ بھی داخل کی ہے جس میں مہلوک نوجوانوں کی جانب سے پولیس پارٹی پر حملہ کرنے اور جوابی کارروائی میں انہیں ہلاک کردینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسٹر وکرمجیت دگل جو موجودہ ایس پی نلگنڈہ جو چند دن قبل کاؤنٹر انٹلیجنس کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدہ پر فائز تھے، کا اچانک نلگنڈہ تبادلہ کردیا گیا تھا جبکہ وقار کے ایک ساتھی محمد ذاکر جو انکاؤنٹر سے قبل چنچل گوڑہ جیل میں محروس رکھا گیا تھا، کو اچانک ورنگل سنٹرل جیل منتقل کردیا گیا تھا۔ کیا ضلع نلگنڈہ ایس پی کا تبادلہ اور ذاکر کی سنٹرل جیل منتقلی ایک سازش کا حصہ تو نہیں ؟