وقار انکاؤنٹر : ای احمد کا پارلیمنٹ میں ہنگامہ،سی بی آئی تحقیقات پر زور

مذہبی خطوط پر تعصب کی حوصلہ شکنی :راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن ارکان نے آج لوک سبھا میں آندھراپردیش میں لکڑہاروں کے اسمگلرس ہونے کے بہانے قتل عام اور تلنگانہ میں زیردریافت پانچ مسلم قیدیوں کی مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر اظہار تشویش کیا اور بے رحمی سے کئے ہوئے اِس قتل کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ وقار انکاؤنٹر کا موضوع وقفہ صفر کے دوران انڈین یونین مسلم لیگ کے ای احمد نے اُٹھایا اور کہاکہ ریاست تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں 5 اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو پولیس نے ماؤرائے عدالت اقدام کرتے ہوئے گولی مار کر اُن کا قتل عام کردیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس واقعہ کی عوام نے بھی توثیق کی ہے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیاکہ اِس معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کروائی جائیں بشرطیکہ عدالتی تحقیقات کا امکان نہ ہو۔ ابتدائی طور پر اسپیکر سمترا مہاجن نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور ای احمد کو یہ معاملہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ یہ ریاستی دائرہ کار میں آتا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر ایم تمبی دورائی نے جو کل ہند انا ڈی ایم کے رکن ہیں اِس موقع پر تحقیقات کے لئے زور دیا اور کہاکہ انکاؤنٹر میں مبینہ طور پر صندل کے اسمگلروں کا آندھراپردیش کے ضلع تروپتی میں قتل عام ہوا ہے۔ جس انداز میں تمبی دورائی نے یہ مسئلہ اُٹھایا تھا، اِس پر اسپیکر برہم ہوگئیں جو کارروائی کی صدارت کررہی تھیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آپ ڈپٹی اسپیکر ہیں، آپ کو اِس طرح راست الزام عائد نہیں کرنے چاہئے۔ آپ کو چاہئے تھا کہ مجھے اِس کی اطلاع دیتے۔

واضح طور پر اُلجھن میں مبتلا اسپیکر نے اُس وقت یہ تبصرہ کیا جبکہ تمبی دورائی نے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سے بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ دیگر چند پارٹیوں کے ارکان بشمول کانگریس اِن مطالبات کی تائید کررہے تھے جبکہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اجلاس سے غیر حاضر تھے۔ جبکہ پوری اپوزیشن سی بی آئی یا عدالتی تحقیقات کے مسلم لیگ کے مطالبہ کی تائید کررہی تھی۔ متعلقہ رکن پارلیمنٹ کی غیر حاضری کی بناء کئی شبہات پیدا ہورہے تھے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے صرف اتنا کہاکہ مرکز نے ریاستی حکومتوں سے اُن واقعات کے بارے میں رپورٹیں طلب کی ہیں اور جواب ملنے کے بعد ارکان کو اطلاع دے دی جائے گی۔ اگر پریسائیڈنگ آفیسر ایسی تجویز پیش کریں تو اُنھیں ایوان کو مطلع کرنا چاہئے۔ تاہم اپوزیشن ارکان نے اُن کے جواب پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومتیں خود بھی ملزمین کے کٹہرے میں ہیں۔ اپوزیشن نے آج حکومت پر شیوسینا کے ایک رکن پارلیمنٹ کے متنازعہ بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مذمت کی۔ شیوسینا ایم پی نے اپنے بیان میں مسلمانوں کی مذمت کی تھی۔

لوک سبھا میں یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کانگریس کے ایم آئی شاہنواز نے کہاکہ راجیہ سبھا کے شیوسینا رکن پارلیمنٹ نے اپنے ایک مضمون میں جو شیوسینا کے ترجمان ’سامنا‘ میں شائع ہوا تھا، مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کردینے کی بات کہی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ برسر اقتدار اتحاد بشمول بی جے پی رکن پارلیمنٹ لوک سبھا ایسے انتشار پسند بیانات باقاعدگی کے ساتھ دے رہے ہیں، اِن میں سے ایک اقلیتی طبقہ کے ارکان کی نس بندی کرنے کے مطالبہ پر بھی مبنی تھا۔ کئی اپوزیشن ارکان نے اُن کی تائید کی اور قائد کانگریس پارلیمانی پارٹی ملک ارجن کھرگے نے کہاکہ ایسے ارکان سماج میں زہر گھول رہے ہیں تاکہ اِسے منتشر کیا جاسکے اور مرکزی وزیرداخلہ سے جو ایوان میں موجود تھے، اِس کی وضاحت طلب کی۔ کھرگے نے ’سامنا‘ کے خلاف فوجداری کارروائی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ضروری ہو تو اِسے فوری بند کردینا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان بشمول بی جے پی رکن پارلیمنٹ لوک سبھا ایسے انتشار پسند بیانات باقاعدگی سے دے رہے ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک ایک وقت میں ایک بیان جاری کرتا ہے جو اقلیت دشمن ہوتا ہے۔

کئی اپوزیشن ارکان نے اِن کی تائید کی اور کانگریس قائد ملک ارجن کھرگے نے کہاکہ ایسے ارکان سماج میں زہر گھول رہے ہیں اور انتشار پیدا کررہے ہیں۔ اُنھوں نے مرکزی وزیرداخلہ سے اِس کی وضاحت طلب کی۔ کھرگے نے ’سامنا‘ کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ الزام کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ اگر کوئی شخص بیان جاری کرتا ہے جو ذات پات، مذہب یا نسل کی بنیاد پر تعصب کی بات کرتا ہو تو میرے خیال میں حکومت ایسے تبصروں کی تائید نہیں کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ دستور ہند اِس بات کو واضح کرچکا ہے کہ کوئی بھی شخص اِن بنیادوں پر تعصب برتنے کا مجاز نہیں ہے۔ کھرگے نے کہاکہ برسر اقتدار اتحاد کے قائدین اور جو اِس سے الحاق رکھتے ہیں، ایسا عدم استحکام چاہتے ہیں۔ اِس کے بجائے کہ وہ عوام کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیں جو دستور میں واضح کیا گیا ہے۔ ہمارے ارکان اِس قسم کے بیانات جاری کررہے ہیں جو انتشار پیدا کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں ایسے کئے ہوئے کئی تبصروں کا حوالہ دے رہے تھے۔