دو سو سالہ قدیم محل میں بہن کی شادی سلمان کی فیملی کے لیے اعزاز
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی) : تاریخی فلک نما پیالیس ، سلمان خان کی بہن کی شادی کی وجہ سے ایک بار پھر شہہ سرخیوں میں ہے اور قومی اور علاقائی میڈیا اس حوالے سے فلک نما کی تاریخی حیثیت اور اس کی خصوصیات پر خصوصی فیچرس اور پروگرام پیش کررہے ہیں ۔ آخر وہ کونسی خصوصیات اور تاریخی حیثیت ہے جو اس تاریخی عمارت کو دیگر لکثرری ہوٹلس سے ممتاز مقام عطا کرتی ہے ۔ دراصل اس خوبصورت عمارت کا تعلق دور آصفیہ سے ہے ۔ جہاں قبل ازیں سلطان محمد قلی قطب شاہ نے ’’ محل کوہ طور ‘‘ کے نام سے تین منزلہ عمارت تعمیر کی تھی جہاں پر اب فلک نما ہے ۔ قطب شاہی سلطنت کے خاتمہ پر دوسری عمارتوں کی طرح محل کوہ طور بھی منہدم ہوگیا ۔ کچھ کھنڈرات باقی رہے ۔ نواب اقبال الدولہ نے جو اس پہاڑی کو پسند کرتے تھے ۔ یہاں پر ایک عالیشان عمارت کی تعمیر کا ارادہ کیا اور 1841 ء میں اس کا سنگ بنیاد رکھا ۔ 8 سال کے عرصے میں 35 ایکڑ پر اس عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی جس پر اس زمانے میں 40 لاکھ روپئے صرف ہوئے تھے ۔ نواب اقبال الدولہ اپنی مدارالمہامی ( چیف منسٹری ) کے زمانے میں اکثر یہاں قیام کرتے تھے ۔ موصوف کے زمانے میں اس محل کی زیب و زینت مشہور تھی ۔ یوروپین مہمان خصوصیت کے ساتھ اس عمارت کی تفریح کیا کرتے تھے ۔ مولف ’’ گلمپس آف دی نظام ڈومنین ‘‘ نے تفصیل کے ساتھ فلک نما کی صراحت کی ہے ۔ یہاں سے پورا شہر حیدرآباد صاف دکھائی دیتا ہے ۔ گولکنڈہ سے بلارم تک کوئی جگہ نظروں سے چھپی نہیں رہتی مگر اب جب کہ شہر میں کنکریٹ کا جنگل آسمان چھوتی عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں اس زمانے کی طرح نظارہ ممکن نہیں رہا ۔ 1896 تک یہ محل اقبال الدولہ ( وقار الامراء ) کی ملکیت میں رہا ۔ اس کے بعد حضور نظام میر محبوب علی خاں نے اسے خرید لیا اور پھر صرف خاص کی ملکیت میں شامل ہوگیا ۔تاہم اس زمانے بھی اجازت نامے کے بغیر کوئی اندر داخل نہیں ہوسکتا تھا ۔ 1911 ء میں نظام میر محبوب علی خان کا انتقال فلک نما میں ہوا ۔ جس کے بعد عام اجازت بند کردی گئی اور اعلی درجے کے مہمانوں کے لیے مخصوص کردیا گیا ۔ چنانچہ 1323 ھ میں جب کنگ جارج پنجم بحیثیت پرنس آف ویلز حیدرآباد آئے تو ان کا قیام اسی محل میں تھا ۔ اس کے بعد قیصر جرمنی کے ولی عہد بھی یہیں مقیم رہے ۔ پھر کنگ جارج کے زمانے میں ان کے فرزند اڈورڈ ہشتم بحیثیت پرنس آف ویلز حیدرآباد آئے تو ان کا قیام بھی اسی عمارت میں رہا ۔ پھر گورنر جنرل لارڈ منٹو پہلے گورنر جنرل اور وائسرائے ہند تھے اور پھر ان کے بعد جتنے بھی وائسرائے ہند حیدرآباد آئے ان کا اسی تاریخی عمارت میں قیام رہا کرتا تھا ۔ آزادی کے بعد پہلے گورنر جنرل سری راج گوپال چاری جب حیدرآباد آئے تو یہیں پر قیام کیا تھا ۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد پہلی مرتبہ حیدرآباد تشریف لائے تو فلک نما میں ہی قیام کیا تھا ۔ یہ محل حیدرآباد کی تمام دوسری تاریخی عمارتوں سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے ۔ فلک نما پیالیس اس کی شاندار اور وسیع کمروں ، طول اور عرض شہ نشین ، خوبصورت برج ، غرض فن تعمیر کے لحاظ سے خصوصیت حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی خوشنما آرائش ، فرنیچر ، شیشے کے آلات فوٹو ، مصوری ، آرٹ کے نمونے ، دوسرے نوادرات وغیرہ یعنی بالفاظ دیگر قیصر فلک نما ایک میوزیم ہے ۔ جدید دور میں 13 نومبر 2010 کو یہ عظیم الشان تاریخی عمارت ایشیا کی عظیم الشان ہوٹل میں تبدیل ہوگئی جس کا افتتاح نظام ثامن نواب میر برکت علی خاں مکرم جاہ بہادر نے انجام دیا ۔ واضح رہے کہ اس تاریخی فلک نما کو تاج گروپس نے لیز پر حاصل کیا ہے اور اسے ایشیا کے عظیم الشان لگثرری ہوٹل میں تبدیل کردیا جو سارے ایشیاء میں سب سے مہنگی قرار دی گئی ہے ۔ اس عمارت میں خاص بات یہ ہے کہ تاج گروپس نے ایک سوٹ کا نام ’’ نظام سوٹ ‘‘ رکھا ہے جس کا یومیہ کرایہ 4 سال قبل 5.50 لاکھ روپئے مقرر کیا گیا تھا ۔ جس میں ایک ذرائع کے مطابق اضافہ کردیا گیا ہے ۔ جب کہ سلمان خان نے پورے ہوٹل کو دو دن کے لیے 2 کروڑ روپئے میں بک کیا ہے ۔ جس میں بالی ووڈ اور ٹالی ووڈ کے علاوہ دیگر شعبہ حیات کے اعلی 200 مہمان شریک ہوں گے ۔ اس لیے 18 اور 19 نومبر کو پولیس نے بھی اعلی پیمانے پر سیکوریٹی انتظامات کئے ہیں ۔۔