وظائف کی تقسیم کے مسئلہ پر اپوزیشن کا پروپگنڈہ گمراہ کن

اسمبلی میں بی جے پی رکن کی بحث پر وزیر پنچایت راج کے ٹی راما راؤ کا بیان
حیدرآباد /18 نومبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر پنچایت راج کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے، جو بڑے پیمانے پر وظائف تقسیم کر رہی ہے۔ آج انھوں نے یہ بات اس وقت کہی، جب اسمبلی میں بی جے پی کے فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمی نارائنا نے وظائف کے تعلق سے عوام میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خاندان نے خودکشی کی ہے اور ہزاروں وظائف کی منسوخی کی انھیں شکایت ملی ہے، جس کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بیواؤں، معذورین اور معمرین میں وظائف تقسیم کرنے والی تلنگانہ ریاست ملک کی 29 ریاستوں میں سرفہرست ہے۔ ماضی میں بیواؤں اور معمرمین کو ماہانہ صرف 200 روپئے اور معذورین کو 500 روپئے دیئے جاتے تھے، تاہم ٹی آر ایس حکومت نے غربت کا جائزہ لینے کے بعد معمرین اور بیواؤں کے وظائف میں پانچ گنا اضافہ کرتے ہوئے ایک ہزار روپئے اور معذورین کے وظائف میں تین گنا اضافہ کرتے ہوئے انھیں 1500 روپئے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی اہل افراد کو وظائف سے محروم نہیں کرے گی اور نااہلوں کو اسکیم سے استفادہ کا موقع ہرگز نہیں دے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کی ستائش کی بجائے اپوزیشن جماعتیں سیاسی مفاد کی خاطر گمراہ کن مہم چلا رہی ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو رہی ہے اور عوام مایوسی کا شکار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وظائف کی اجرائی کا جائزہ لینے کے لئے انھوں نے کل تلنگانہ کے اعلی عہدہ داروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا اور اس مسئلہ پر حکومت ایوان میں بیان دینے کے لئے تیار ہے۔ اسی دوران ڈاکٹر لکشمی نے دوبارہ مداخلت کی کوشش کی، تاہم ریاستی وزیر اسمبلی امور ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ میں بہت سنجیدہ ہے، لہذا اتنی بڑی اسکیم پر بار بار شکوک کا اظہار درست نہیں ہے۔ انھوں نے اخبارات کی خبروں کو بنیاد بناکر ایوان کا قیمتی وقت ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیا۔