تلنگانہ میں غیر جمہوری حکمرانی، احتجاج منظم کرنے اتم کمار ریڈی کی دھمکی
حیدرآباد ۔ 17۔ اپریل (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس این اتم کمار ریڈی نے چیوڑلہ کے کانگریس امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے ایم آر پی ایس کے صدر مندا کرشنا مادیگا کو گھر پر نظربند کرنے پولیس کے اقدام پر سخت احتجاج کیا ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی توہین کے خلاف مندا کرشنا مادیگا نے احتجاج کا اعلان کیا تھا لیکن پولیس احتجاج ناکام کرنے کیلئے انہیں گھر پر نظربند کرچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مندا کرشنا مادیگا کو گھر پر محروس رکھنے کا اقدام غیر جمہوری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مندا کرشنا مادیگا کے احتجاج کی مکمل تائید کرتی ہے۔ انہوں نے پولیس پر اوور ایکشن کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پولیس کے استعمال کے ذریعہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سماج کو کیا پیام دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمہ کی توہین کی گئی ، اس مسئلہ کو ملک بھر میں لے جایا جائے گا ۔ اتم کمار ریڈی نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی ڈکٹیٹرشپ حکومت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کونڈا وشویشور ریڈی کی قیامگاہ پر پولیس سیول ڈریس میں داخل ہوگئی اور غلط برتاؤ کیا ، بعد میں وشویشور ریڈی کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا ۔ کانگریس پارٹی کونڈا وشویشور ریڈی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیریت آباد میں ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمہ کو جس انداز سے نکالا گیا
اور پولیس نے کونڈا وشویشور ریڈی کے ساتھ جو سلوک کیا ہے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کو جمہوریت اور قانون پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ صدر پردیش کانگریس نے ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات کے شفافیت سے انعقاد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے طرح اپوزیشن قائدین کو انحراف کیلئے مجبور کرنے کی روایت کا احیاء نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی امیدواروں کے انتخاب کا اختیار مقامی قائدین کو دیا گیا ہے ۔ اندرون دو یوم امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کے جلد اعلان کی کوشش کی جائے گی تاکہ انہیں انتخابی مہم کے لئے وقت ملے ۔ انہوں نے پارٹی قائدین پر زور دیا کہ وہ انتخابات کیلئے تیار ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے امیدواروں سے حلفنامہ حاصل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ مقامی قائدین کی رائے کے مطابق سرگرم قائدین کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔