وزیر خارجہ سشما سوراج 5 روزہ دورہ انڈونیشیاء پر روانہ

نئی دہلی 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )وزیر خارجہ سشما سوراج آج پانچ روزہ دورہ انڈونیشاء کیلئے روانہ ہوئیں جہاں وہ 60 ویں یادگار تاریخی 1955 ایشیائی افریقی کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ جو سردجنگ تحریک کے قیام کا سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ وہ نئے ایشیائی افریقی اسٹارٹیجک پارٹنر شپ کی 10 ویں سالانہ تقریبات میں بھی شرکت کریں گی۔ سشما سوراج کے ہمراہ ان کی وزارت سے تعلق رکھنے والے سینئر سفارتکار بھی ہوں گے کانفرنس میں اہم امور پر بات چیت بھی ہوگی ۔ یہ کانفرنس جکارتہ اور بنڈنگ میں منعقد ہوگی ۔ انڈونیشیائی آزادی کے 1955 کی کانفرنس میں عالمی شخصیتیں شرکت کی تھی جن میں قابل ذکر مصر کے جمال عبدالناصر اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو شامل ہیں جنہو ںنے ’’پنچ شیل‘‘ نظریہ کو پیش کیاتھا اور عالمی امن و تعاون کے 10 اصول وضع کئے گئے تھے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس یادگار کانفرنس میں شرکت سے اپنے قاصر ہونے کا اظہار کیا تھا جس میں بڑے ایشیائی اور افریقی ملکوں جیسے چین‘جاپان‘ جنوبی افریقہ کے سربراہان شرکت کررہے ہیں ۔ وزیر اعظم مودی نے صدر انڈونیشیاء جوکو ورود کو مکتوب لکھ کر اس کانفرنس میں اپنی عدم شرکت کی اطلاع دیتے ہوئے معذرت خواہی کی ہے ۔ اس مکتوب میں وزیر اعظم نے صدر انڈونیشیاء کو دورہ ہند کی بھی دعوت دی ہے اور کہا کہ وہ باہمی سہولت بخش وقت پر انڈونیشیاء کا دورہ کرنے کے بھی آرزو مند ہیں ۔ انڈونیشیاء کے ساتھ ہندوستان کے باہمی تعلقات میں غیر معمولی اہمیت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے روابط کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے ۔ دونوں ملکوں کی ثقافت اور تہذیب مشترک ہے دونوں ہی جمہوری اقدار پر قائم ہیں اور ہمارے اصول ہی ایشیائی ملکوں میں دو بڑے ملک ب کر ابھرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں ۔ ان 60 برس میں ایشیاء نے غیر معمولی طور پر معاشی ترقی کی ہے ۔ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں اور غربت کا خاتمہ ہورہا ہے ۔ مودی نے کہا کہ ہم کو ہنوز حل طلب مسائل کی یکسوئی کیلئے کام کرنا ہے ۔