نئی دہلی۔16مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمنٹ نے آج اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر قابو پانے کیلئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور بنگال میں 70سالہ بوڑھی نن کی عصمت ریزی اور ہریانہ میں ایک گرجا گھر کے انہدام کا حوالہ دیا ۔ حکومت نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی بہرحال برقرار رکھی جانی چاہیئے ۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے ایوان کی کارروائی معطل کرنے کی نوٹس دی تھی اور اس معاملہ پر مباحث کا مطالبہ کیا تھا‘ کہا کہ اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں اور یہ ایک سنگین صورتحال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دکھ اور اذیت کے ساتھ وہ یہ مسئلہ اٹھا رہے ہیں ۔ مغربی بنگال میں یہ 70سالہ بوڑھی نن کی عصمت ریزی ہوئی ہے ۔ ایک گرجا گھر جو ہریانہ میں زیر تعمیر تھا منہدم کردیا گیا ہے ۔ عیسائیوں پر ملک بھر میں حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ‘ یہ انتہائی صدمہ انگیز بات ہے کہ دائیں بازو کی انتہا پسند طاقتیں بہت زیادہ جارحانہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم ہماری قوم کے سیکولر تانے بانے کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ملک کے تمام لوگوں کیلئے فکر کا باعث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایوان کی کارروائی معطل کردی جائے اور اس مسئلہ پر دفعہ 267 کے تحت مباحث کئے جائیں ۔ انہوں نے سینئر بی جے پی قائد کے گوہاٹی میں متنازعہ بیان کا بھی حوالہ دیا تھا خدا صرف مندروں میں رہتا ہے اور کہیں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے راجہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے مرکزی وزیر ملکت برائے پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو ایسے معاملات میں ضروری کارروائی کرنی چاہیئے اور خاطیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے اس مسئلہ پر مناسب نوٹس کے بعد مباحث سے بھی اتفاق کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے ۔ ہم ایسے واقعات کے مخالف ہیں ‘ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھی جانی چاہیئے ۔ کسی کو بھی اس بات میں شک و شبہ نہیں ہونا چاہیئے ‘ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے اور تمام ریاستی حکومتیں جہاں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں سخت اقدامات خاطیوں کے خلاف اور ذمہ داروں کے خلاف کرنا چاہیئے جن کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ ڈی راجہ کی تائید جنتادل ( یو) کے علی انور انصاری ‘ سی پی آئی ایم کے تپن کمار سین اور ترنمول کانگریس سے سکھیندو شیکھر رائے نے کی ۔ وہ اس مسئلہ پر مباحث چاہتے تھے ۔ مختلف افراد کے اشتعال انگیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سین نے بھی کہا کہ بار بار بدگوئی کی جاتی ہے ۔ اس کو وزیر اعظم کے تیقنات کے باوجود روکا نہیں جارہا ہے ۔ وزراء بشمول وزیراعظم نے تیقن دیا تھا لیکن اگلے ہی دن بلکہ اُسی دن اشتعال انگیز تقریریں عوام کو مذہب اور ذات پات کے خطوط پر تقسیم کرنے کے مقصد سے کی گئیں۔ آخر وزیراعظم کے تیقن کی کیا ساکھ ہے سی پی آئی ایم رکن نے سوال کیا کہ وقفہ صفر کے دوران اس معاملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے رکن ڈیرک اوبرائین نے بھی مغربی بنگال میں نن کی عصمت ریزی کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ملک اس بے رحمانہ شرمناک کارروائی پر شرمند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیئے ۔ ریاستی حکومت نے کچھ تیز رفتار کارروائی کی ہے ‘7افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور سی آئی ڈی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملہ کا کسی اور چیز سے تقابل نہیںکریں گے کیونکہ یہ معاملہ زیادہ بڑا ہے ۔ یہ خواتین کے حقوق کا معاملہ ہے ‘ ان کے تحفظ کا معاملہ ہے جو اقلیتی ادارے چلاتے ہیں ۔ یہ معاملہ ماؤں اور بہنوں کے تحفظ کا معاملہ ہے ۔ بعض اوقات ہمارے قول اور عمل شرمناک ہوتے ہیں یہ ایک بڑا معاملہ ہے ۔ حالانکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اتفاق کیا تھا کہ اقلیتوں پر حملہ کے مسئلہ پر مختصر مدتی مباحث ہونے چاہیئے لیکن نائب صدر نشین پی جے کورئین نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایوان صرف حکومت کی جانب سے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا خواہاں ہے ۔ کارروائی کو معطل کرنے کی نوٹس اور مباحث کروانے کا مطالبہ قاعدہ 267کے تحت مسترد کیا جاتا ہے ۔