وزیراعظم نریندر مودی کو مختلف مسائل پر کے سی آر کے دس مکتوبات

تلنگانہ کے لیے علحدہ ہائی کورٹ کا پر زور مطالبہ ، چیف منسٹر تلنگانہ کی مودی سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے آج دوپہر دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے مختلف مسائل پر 10 مکتوبات پیش کئے ۔ تلنگانہ کے لیے علحدہ ہائی کورٹ قائم کرنے کالیشورم پراجکٹ کو مرکز سے فنڈز جاری کرنے ، ریلوے پراجکٹس کی تعمیرات میں تیزی پیدا کرنے ، سکریٹریٹ کی تعمیر کے لیے محکمہ دفاع کی اراضیات حوالے کرنے ، پسماندہ اضلاع کی ترقی کے لیے فنڈز کی اجرائی تلنگانہ کو آئی آئی ایم منظور کرنے ، آئی ٹی آئی آر کو فنڈز جاری کرنے کریم نگر میں آئی آئی ٹی قائم کرنے ، نئے اضلاع میں جواہر ناودیالیہ تعلیمی ادارے قائم کرنے ، نئے زونل نظام کی منظوری و دوسرے امور پر یادداشتیں پیش کی ۔ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان تقریبا ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی ۔ کے سی آر نے بتایا کہ کالیشورم تلنگانہ کا اہم پراجکٹ ہے ۔ 80 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ اس پراجکٹ سے تلنگانہ کے 20 اضلاع اور 18 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی سیراب ہوگا ۔ صنعتی شعبہ کے لیے بھی یہ پراجکٹ کارآمد ثابت ہوگا ۔ اس پراجکٹ کے لیے تلنگانہ حکومت نے بجٹ میں 25 ہزار کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی ہے ۔ 22 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ مرکزی حکومت اس پراجکٹ کے لیے 20 ہزار کروڑ روپئے کی مالی امداد کریں ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ملازمتوں کے تقررات کے لیے قدیم زونس نظام جاری ہے ۔ آرٹیکل 371D پر ابھی تک عمل ہورہا ہے ۔ کابینہ کی منظوری کے ساتھ نئے زونس اور ملٹی زونس قائم کئے گئے ہیں ۔ اس کی منظوری کے لیے صدر جمہوریہ سے سفارش کرنے کی بھی وزیراعظم سے اپیل کی گئی ۔ 6 دہوں کی جدوجہد کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی ہے ۔ تلنگانہ کے لیے علحدہ ہائی کورٹ قائم کرنے پر زور دیا ۔ تلنگانہ میں ریلوے پراجکٹس کے تعمیری کاموں میں تیزی پیدا کرنے پر زور دیا ۔ حیدرآباد میں نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے لیے بیسن پولو گراونڈ کی اراضی ریاستی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس کے بدلے تلنگانہ حکومت محکمہ دفاع کو دوسری اراضی فراہم کرنے تیار ہے ۔ تقسیم ریاست بل کے مطابق تلنگانہ کے غیر منقسم 9 اضلاع کو فی کس 50 کروڑ روپئے کے حساب سے 450 کروڑ روپئے جاری کرنا ہے ۔ مگر سال 2017-18 کی آخری قسط ابھی تک جاری نہیں کی گئی ۔ ریاست تلنگانہ کو آئی آئی ایم منظور کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مرکزی حکومت نے سال 2013 کے دوران حیدرآباد کو آئی ٹی آئی آر منظور کیا ہے ۔ اس کے لیے حکومت نے ڈی پی آر بھی داخل کیا ہے ۔ فوری فنڈز کی اجرائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ۔ کریم نگر میں آئی آئی ٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ہر ضلع کو ایک جواہر ناو ودیالیہ منظور کرنے پر بھی زور دیا ۔۔