کشمیر میں خون ریزی ختم کرنے پیا ٹی آئی سربر اہ کے عزم کی ستائش‘ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر
سرینگر ۔ /28 جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے صدر عمران خان کی جانب سے پیش کردہ ’دوستی کے ہاتھ‘ کو قبول کریں ۔ جموں و کشمیر کی خون ریزی ختم کرنے عمران خاں کے جذبہ کی ستائش کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کے اہم مسئلہ کے بشمول تمام تنازعات کی یکسوئی کیلئے دونوں جانب کے قائدین جیسے ہندوستان اور ان کی حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پاکستان تیار ہے ۔ عمران خان نے جن کی پارٹی قومی اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے زور دے کر کہا ہے کہ دو پڑوسی ملکوں کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا یہ کھیل اب ختم ہوجانا چاہئیے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں وزیراعظم مودی سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ پاکستان میں تشکیل پانے والی نئی حکومت اور نئے وزیراعظم سے بات کریں ۔ عمران خاں نے ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ انہوں نے مذاکرات کی بات کی ہے ۔ لہذا مودی کو مثبت جواب دینا چاہئیے ۔محبوبہ مفتی نے عمران خان کے حالیہ بیان کے تعلق سے کہا ‘میں وزیر اعظم سے اپیل کرنا چاہتی ہوں۔ پاکستان میں نئی سرکار بننے جارہی ہے ۔ نیا وزیر اعظم بننے جارہا ہے ۔ اس نے ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ مذاکرات کی بات کی ہے ۔آپ کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے ۔ الیکشن تو آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ واجپائی جی نے2004 ء انتخابات سے قبل پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ سرحدوں پر جنگ بندی کرائی تھی۔ بڑے لیڈر الیکشن کے بارے میں نہیں بلکہ لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں’۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کو مخاطب ہوکر کہا ‘اس لئے میری گذارش ہے کہ آپ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور عمران کی دوستی کی پہل کا مثبت جواب دیں’۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے ، خون خرابہ بند کرنے و پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے والے کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔انہوں نے کہا ‘جموں وکشمیر اس ملک کے ہر ایک وزیر اعظم کیلئے چیلنج رہا ہے ۔ چاہیے وہ جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی ، وی پی سنگھ، آئی کے گجرال، واجپاجی یا نریندر مودی ہوں ۔ جو وزیر اعظم جموں و کشمیر کے مسئلے کا انسانیت کے اندر حل نکالے گا، یہاں خون خرابہ بند کرے گا، پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گا، اس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا’۔سابق چیف منسٹر نے کہا کہ ‘میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ پاکستان سے بات چیت کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ‘۔ انہوں نے کہا ‘میں نے مودی جی سے کہا کہ اگر ہم کشمیر میں سونے کی سڑک بنائیں گے ، چاندی کے کوچے بنائیں گے ، لیکن جب شام کے وقت ایک یا دو شہری جاں بحق ہوتے ہیں تو یہ سب ضائع ہوجاتا ہے ۔
امیت شاہ کو سیاہ پرچم دکھانے پر 3 گرفتار
الہ آباد 28 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) الہ آباد میں بی جے پی صدر امیت شاہ کے قافلہ کے سامنے کود کر سیاہ پرچم دکھانے کے سلسلہ میں دو خواتین کے بشمول تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس برجیش سریواستو نے کہا کہ یہ واقعہ کل پیش آیا تھا احتجاجیوں کا تعلق سماجوادی پارٹی سے بتایا گیا ہے ۔