نئی دہلی۔ 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں آج ارکان نے وزیراعظم سری لنکا رانیل وکرما سنگھے کے اِن ریمارکس پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان کے ملک کی بحریہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مداخلت کار کو گولی مار دے۔ اپوزیشن کے احتجاج کی بناء حکومت کو اس مسئلہ پر مباحث کے لئے آمادگی ظاہر کرنی پڑی۔ لوک سبھا ڈپٹی اسپیکر اور انا ڈی ایم کے لیڈر ایم تھمبی دورائی نے وزیر خارجہ سشما سوراج کی توجہ وکرما سنگھے کے بیان کی طرف مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سری لنکا نے نریندر مودی کے دورہ کے بعد بھی ’’گولی مارنے کے حق‘‘ ریمارکس کا اعادہ کیا ہے۔ سری لنکا کے لیڈر نے مودی کے دورۂ سری لنکا سے پہلے یہ بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر کوئی ہندوستانی ماہی گیر سری لنکا کے آبی حدود میں داخل ہوجائے تو ہماری بحریہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے گولی مار دے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سنگین نوٹ لے اور اس ریمارک پر قاعدہ 193 کے تحت مباحث کا مطالبہ کیا جس میں رائے دہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کانگریس اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے بھی انا ڈی ایم کے کی تائید کی۔سشما سوراج نے کہا کہ نریندر مودی نے سری لنکا قیادت سے ماہی گیروں کو درپیش مسائل پر بات کی ہے۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے راجیو شکلا نے یہ مسئلہ اُٹھایا۔ حکومت نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سشما سوراج ایوان میں اس مسئلہ پر بیان دیں گی۔