وزارتوں میں پرائیویٹ سیکریٹریز کے تقررات میں تاخیر پر تشویش

سرینگر۔ 17 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعلیٰ جموںو کشمیر عمر عبداﷲ نے وزیراعظم کے دفتر سے یہ استفسار کیا کہ مرکزی وزراء کے پرائیویٹ سیکریٹریز کے تقررات کو زیرالتواء کیوں رکھا گیا ہے ۔ عمر عبداﷲ نے کہا کہ وزراء کو اپنے شخصی اسٹاف کے انتخاب کیلئے پوری آزادی دی جانی چاہئے اور اُن پر اعتماد بھی کیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے دفتر کا مستحکم ہونا ایک الگ بات ہے اور وزراء کو اپنی شخصی اسٹاف کے انتخاب کی آزادی دینا علحدہ بات ہے ۔ دونوں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی وزیر کا پرائیویٹ سیکریٹری یا دیگر اسٹاف نہیں ہوگا تو متعلقہ وزارت کے روزمرہ کے کام کاج کیونکر انجام دیئے جاسکیں گے ۔

اپنے مائیکرو بلاگنگ ٹوئیٹر پر تحریر کرتے ہوئے عمر عبداﷲ نے یہ بات کہی ۔ یاد رہے کہ تین وزارتوں بشمول وزارت خارجہ میں پرائیویٹ سیکریٹریز اور دیگر اسٹاف کے تقررات کو یہ کہکر زیرالتواء رکھا گیا ہے کہ یہ ذمہ داری کابینہ کی اپائنٹمینٹ کمیٹی کی ہے اور جب تک کمیٹی کی جانب سے کوئی پیشرفت نہ ہو پرائیویٹ سیکریٹریز ، آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹیز اور دیگر اسٹاف کے تقررات نہیں کئے جاسکتے اس کے بارے میں ایک سرکلر 26 مئی کو تمام سیکریٹریز کو جاری کیا جاچکا ہے ۔ جہاں تک وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا سوال ہے تو اُن کے پرائیویٹ سیکریٹری کے لئے جس نام کی تجویز پیش کی گئی ہے وہ 1995 ء بیاچ کے آئی پی ایس آفیسر الوک سنگھ ہیں جنھوں نے سابقہ یو پی اے حکومت میں سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کے ساتھ کام کیا ہے ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مرکز میں نئی حکومت اُن افسران کے تقررات کے لئے پس و پیش کا شکار ہے جنھوں نے سابقہ یو پی اے حکومت میں وزراء کے اسٹاف کے طورپر اپنی خدمات انجام دی تھیں۔