راجیا۔ پرتاپ اور دیاکر راؤ اور کڈیم سری ہری کے گروپس میں جنگ کی نوبت
کے ٹی آر کا حلقہ متاثر
حیدرآباد ۔ 23 جون (شاہنواز بیگ کی رپورٹ ) ضلع ورنگل کے 12 حلقوں اور دو پارلیمانی نشستوں پر اپنی طاقت کا گھمنڈ کرنے والی حکمراں ٹی آر ایس کو آج اس وقت شدید دھکہ لگا جبکہ پارٹی کے علحدہ علحدہ مقامات پر اختلافات منظرعام پر آگئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری، سابق ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا کے درمیان شدید اختلافات منظرعام پر آ گئے ہیں اور کئی ایک مواقع پر دونوں سینئر قائدین کے درمیان رسہ کشی کے مناظر دیکھے جارہے ہیں۔ حتی کہ دونوں قائدین کے حامیوں کے درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آئے ہیں جس کے بعد دونوں کی جانب سے اسٹیشن گھن پور میں ایک دوسرے کے خلاف شکایت بھی درج کرائی گئی ہیں۔ تلگودیشم پارٹی سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ای دیاکر راؤ کا ٹی آر ایس پارٹی میں شامل ہونے کے بعد سے رکن قانون ساز کونسل کونڈامرلی کے ساتھ زبردست ٹکراؤ دیکھا جارہا ہے۔ دونوں قائدین کے درمیان بھی کئی بار لفظی جھڑپ کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ان دنوں تلنگانہ اسپیکر مدھوسدن چاری اور کنڈا سریکھا کے بیچ بھی رسہ کشی کا ماحول دیکھا جارہا ہے جس کے ساتھ ہی تلگودیشم پارٹی سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے گنڈرا ستیہ نارائنا اور مدھوسدن چاری کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ چنانچہ حلقہ اسمبلی بھوپال پلی کی نشست پر 2019ء کے عام انتخابات میں کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں اور واضح طور پر اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کنڈا سریکھا کی دختر اسمیتا پٹیل کو ٹکٹ کی تصدیق کردی ہے۔ اس حوالے سے بغیر کسی کو اطلاع دیئے اسمیتا پٹیل کے حق میں انتخابی مہم کا آغاز بھی کردیا ہے۔ دوسری طرف مدھوسدن چاری بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ اگر یہاں سے اسمیتاپٹیل کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو وہ سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا۔ چیف منسٹر نے انہیں تیقن دیا ہیکہ اس بار بھی اس حلقہ اسمبلی سے انہیں ہی ٹکٹ دیا جائے گا۔ اسی لئے اس حلقہ میں مزید کام کرتے ہوئے پارٹی کو مضبوط کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ تیسری طرف گنڈرا ستیہ نارائنا نے بیان بازی کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر نے ان سے وعدہ کیا ہیکہ اس حلقہ اسمبلی سے ان ہی کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں بیوقوف نہیں ہوں جو تلگودیشم چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شامل ہوا ہوں۔ ان کا دعویٰ ہیکہ مذکورہ دونوں قائدین میں سے کسی کو بھی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا صرف اور صرف مجھے ہی اس حلقہ اسمبلی سے امیدوار بنایا جائے گا۔ ان تین امیدواروں کے درمیان حلقہ اسمبلی بھوپال پلی میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ شہر ورنگل میں بھی اسی قسم کا ماحول دیکھا جارہا ہے جہاں کی نشست پر پانچ امیدوار دعویدار ہیں جس میں میئر ورنگل این نریندر، دیاکر راؤ کے بھائی ای پردیپ راؤ اور مقامی رکن اسمبلی کنڈا سریکھا، سابق وزیر بسوراج ساریا اور گنڈو سدارانی اپنا اپنا دعویٰ پیش کررہے ہیں۔ یہاں پر بھی کافی گروپ بندیاں پیدا ہوگئی ہیں جہاں سے پانچوں امیدوار اپنی دعویداری کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ آج اچانک پارٹی میں شدید اختلافات دیکھنے میں آئے جو سابقہ ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا اور مقامی ٹی آر ایس قائدین آر پرتاب راؤ کے حامیوں میں زبردست ہاتھا پائی ہوئی اور لفظی جھڑپ کا واقعہ پیش آیا۔ جہاں پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے انہیں یہاں سے منتشر کردیا۔ پڑوسی ضلع کریم نگر میں ریاستی وزیر فینانس ای راجندر اور رکن راجیہ سبھا کیپٹن لکشمی کانت کے درمیان مارکٹ کمیٹی کے چیرمین کے عہدے کو لیکر زبردست اختلافات پیدا ہوگئے جس کا کے ٹی آر کے آبائی ضلع میں سر سلہ میں اس کا برا اثر آئندہ دنوں میں دیکھنے میں آئے گا۔