ورنگل میں کالوجی نارائن راؤ ہیلتھ یونیورسٹی کے قیام کیلئے تلنگانہ کابینہ کا فیصلہ

یکم جنوری کو عام تعطیل ، شہر میں 10 کروڑ کے مصارف سے کرسچن بھون اور چار پارلیمانی سکریٹریز کے تقررات کا اعلان

حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے سال نو کے موقع پر یکم جنوری کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی کابینہ کا اجلاس آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ کے سی آر کابینہ نے ضلع ورنگل میں کالوجی نارائن راؤ ہیلتھ یونیورسٹی کے قیام کا اہم فیصلہ کیا۔ چیف منسٹر نے کل ایک عوامی تقریب میں یکم جنوری کو سال نو کی تعطیل کا اعلان کیا تھا جسے آج کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ تلنگانہ عوام کو سال نو کی تعطیل کے ذریعہ حکومت نے خوشخبری دی ہے۔ کابینہ نے حیدرآباد میں عیسائیوں کیلئے کرسچین بھون کی تعمیر کیلئے 10کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے۔ چیف منسٹر نے عیسائیوں کی ایک تقریب میں کل رات کرسچین بھون کی تعمیر کا اعلان کیا تھا اور آج حکومت نے نہ صرف 10کروڑ کی رقمی منظوری دی بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود نے رقم جاری کرتے ہوئے احکامات جاری کئے۔ کابینہ نے پارلیمنٹری سکریٹریز کے تقرر سے متعلق آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے بعض ارکان اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری کے طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے متعلق آرڈیننس کو کابینہ نے آج منظوری دی ہے۔ شادیوں کے لازمی رجسٹریشن سے متعلق آندھرا پردیش میں موجود قانون کو تلنگانہ حکومت نے اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قانون تلنگانہ کے نام سے ریاست میں نافذ کیا جائے گا اور ہر منڈل میں شادی کے رجسٹریشن سے متعلق دفاتر قائم کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینی اجلاس میں چیف منسٹر نے وزراء اور خاص طور پر نئے وزراء کو اپنے متعلقہ محکمہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ کابینی اجلاس میں تین وزراء غیر حاضر رہے، ان کی غیر حاضری سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی۔جو وزراء اجلاس سے غیر حاضر تھے ان میں کے ٹی راما راؤ، جگدیش ریڈی اور تملا ناگیشور راؤ شامل ہیں۔ تملا ناگیشور راؤ کو منگل کے دن کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ دو غیر حاضر وزراء کے مقابلہ کے ٹی آر کی غیر حاضری اہمیت کی حامل ہے۔ وہ گزشتہ دس دن سے سرکاری کام کاج سے دور ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ وہ سکریٹریٹ بھی نہیں آرہے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے بیرونی سرمایہ کاروں سے ملاقات کیلئے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے دورہ پر تھے، اُن کی منگل کو واپسی ہوئی اور اسی دن کابینہ میں توسیع کی گئی۔ حیدرآباد میں موجود رہتے ہوئے کے ٹی آر نے حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کی اور خرابی صحت کا بہانہ بنایا گیا۔ کے ٹی راما راؤ مسلسل دوسری مرتبہ کابینی اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ منگل کے دن کابینہ میں توسیع کے بعد منعقدہ اجلاس میں بھی وہ غیر حاضر رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے موقع پر بعض قائدین کی شمولیت سے وہ ناراض ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کے ٹی راما راؤ نے کابینہ میں شمولیت کیلئے بعض ناموں کی سفارش کی تھی جسے چیف منسٹر نے قبول نہیں کیا علاوہ ازیں وہ دیگر پارٹیوں سے حالیہ عرصہ میں شامل ہونے والے ارکان کی کابینہ میں شمولیت کی مخالفت کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں گزشتہ 14برسوں سے خدمات انجام دینے والوں کو ترجیح دی جانی چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی آر نے کابینہ میں شمولیت کیلئے کونڈہ سریکھا، ونئے بھاسکر اور دیگر ارکان کے نام پیش کئے تھے۔ کے ٹی آر کے قریبی ذرائع اگرچہ کسی بھی ناراضگی کی تردید کررہے ہیں لیکن پارٹی کے بعض قائدین نے اعتراف کیا کہ کابینہ میں شامل کئے گئے بعض ارکان کے بارے میں کے ٹی آر ناخوش ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی کئی سینئر قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔