وجے واڑہ میں عارضی دارالحکومت بنانے کی تجویز معنی خیز

حیدرآباد /13 اگست (سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس بی ستیہ نارائنا نے کہا کہ حیدرآباد کے ہوتے ہوئے وجے واڑہ کو عارضی طورپر آندھرا پردیش کا دارالحکومت بنانے کی تجویز معنی خیز ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد آئندہ دس برس تک دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہے، لہذا وجے واڑہ کو عارضی دارالحکومت بنانے کی کوشش، چند افراد کو فائدہ پہنچانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے کس شہر کو دارالحکومت بنایا جائے، ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا، جب کہ مختلف مقامات کے لوگ اپنے اپنے مقام کو دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لہذا عارضی صدر مقام کی تجویز غیر ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں بھی نیا دارالحکومت بنایا جائے، وہاں تمام ضروریات اور سہولیات کی موجودگی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستقل دارالحکومت کے قیام تک عارضی دارالحکومت کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا ہے، لہذا اب اس سلسلے میں نیا تماشہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش پہلے تلگودیشم کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل کرکے دکھائیں، کیونکہ وعدہ کے مطابق کسانوں اور ڈاکرا گروپس خواتین کے قرضہ جات اب تک معاف نہیں کئے گئے، تاہم عمل آوری سے قبل ہی اس کو مشروط بنادیا گیا، اس کے باوجود عمل آوری کی منظوری دینے سے آر بی آئی انکار کر رہا ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ بیروزگار نوجوانوں کو ملازمت اور بھتہ کب دیا جائے گا، اب تک اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کا 70 دن کا دور حکومت مایوس کن رہا، سرکاری کام کاج ٹھپ ہے اور حکومت کے وجود کا احساس نہیں ہو رہا ہے، جب کہ چیف منسٹر اور وزراء صرف بیان بازی پر اکتفا کر رہے ہیں۔