حیدرآباد /14 فروری (سیاست نیوز) کانگریس رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے کل پارلیمنٹ میں پیش آئے واقعہ کو جمہوریت کا خون ہونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا کے سامنے ہندوستان کو شرمسار ہونا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے اپنے مسائل پیش کرنے کے لئے ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا ہے، مگر کانگریس رکن پارلیمنٹ ایل راجگوپال اور تلگودیشم رکن پارلیمنٹ ایم وینو گوپال ریڈی نے لوک سبھا میں غنڈہ گردی کرتے ہوئے جمہوری اقدار کو پامال کیا ہے، لہذا ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہئے، تاکہ مستقبل میں کوئی رکن اس قسم کی حرکت کی جرأت نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس میں اظہار خیال کی آزادی ہے، تاہم حدود پار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے، لہذا ان کے فیصلہ کا احترام کرنا تمام کانگریسیوں کی ذمہ داری ہے۔
یو پی اے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کرنے والے کانگریس کے 6 ارکان پارلیمنٹ کی پارٹی سے برطرفی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارٹی نے جو آزادی دی ہے، اس کے بیجا استعمال کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کی جانب سے بی جے پی کے اعلی قائدین کو دیئے گئے ظہرانہ کو فلور مینجمنٹ کا حصہ قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی جانب سے وزیر اعظم پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کانگریس سیکولر نظریات کی حامل جماعت ہے۔ راجگوپال کی حرکت کی جگن موہن ریڈی کی جانب سے کی گئی مدافعت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ایم اے خان نے کہا کہ جمہوریت میں غنڈہ گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انھوں نے صدر تلگودیشم پر دہرا رول ادا کرنے کا الزام عائد کیا۔