حیدرآباد ۔ 31 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش پولیس نے ایک کارروائی میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے قتل کی سازش کو ناکام بنادیا اور ایچ سی یو کے دو طلبا کو گرفتار کرلیا ۔ ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس مشرقی گوداوری مسٹر ویشال گنی نے یہ بات بتائی ۔ ان طلبا کو تلاشی مہم کے دوران گرفتار کرلیا گیا جو بھدرا چلم اور چرلہ ہائی وے پر سفر کررہے تھے ۔ ان طلبا پر روہت ویمولہ کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ماویسٹوں کے ساتھ سازباز کا الزام ہے ۔ گرفتار طلبا چندن مشرا اور پرتھوی راج روہت ویمولہ کی خود کشی کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور وہ اس کے لیے وائس چانسلر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی مسٹر اپا راؤ کے قتل کی سازش تیار کرچکے تھے ۔ یاد رہے کہ روہت ویمولہ نے سال 2013 میں انتہائی اقدام کیا تھا ۔ آندھرا پردیش پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دو طالب علم ماویسٹ لیڈر کے اشارے پر کام کررہے تھے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ چندرانا دلم کے سنٹرل کمیٹی رکن ہری بھوشن عرف یاپا نارائنا کے احکامات پر یہ دو طلبا عمل آوری کررہے تھے ۔ ایچ سی یو میں ایم اے کے طالب علم چندن کمار مشرا کا تعلق کولکتہ سے اور پرتھوی راج کا تعلق آندھرا پردیش سے بتایا گیا ہے ۔ جب کہ پولیس کی اس کہانی اور بیان کے برخلاف انقلابی ادیبوں کی تنظیم ’ ویراسم ‘ کا کہنا ہے کہ ان دونوں طالب علموں کو ایک ہفتہ قبل ہی گرفتار کیا گیا اور ان دونوں کو رہائی کے لیے ویراسم نے پوسٹرس بھی لگائے تھے ۔ تاہم اس سارے معاملہ پر ایچ سی یو کے وائس چانسلر مسٹر اپا راؤ کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کی کوئی دھمکی نہیں دی گئی اور کس نے میرے قتل کا منصوبہ تیار کیا ہے مجھے اس بات کا بھی علم نہیں اور نہ ہی پولیس نے اس تعلق سے مجھے کوئی اطلاع دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کیمپس پر سکون ہے ۔