نیپال میں سیلاب سے 105 افراد ہلاک

سیلاب سے وبائیں پھیلنے کے اندیشوں میں اضافہ ، ادویہ متاثرہ علاقوں کو روانہ
کٹھمنڈو۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات سے نیپال میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 105 ہوگئی جبکہ آج 7 مزید نعشیں دستیاب ہوئیں۔ 130 افراد ہنوز لاپتہ ہیں۔ حکومت ہیضہ کی وباء کے خلاف جدوجہد کررہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ادویہ کے پیاکٹس دیگر وبائیں پھیلنے کے اندیشوں کی بناء پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں۔ سیلاب اور زمین کھسکنے سے بردیا، بانکے اور کیلالی علاقوں میں متاثرین کی تعداد زیادہ ہے۔ وباؤں کے پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ صحت کارکنوں کو فکر ہے کہ اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کئے جائیں تو ہیضہ کی وباء پھیل سکتی ہے۔ ہولیا، بیتاہانی اور اُدھارا پور کے سیلاب سے متاثرہ افراد پیچش، بخار اور آشوبِ چشم کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ہولیا اور بیتاہانی میں 200 متاثرین کا علاج کیا گیا۔ وزیر داخلہ رام دیو گوتم نے کل سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور سرکاری محکموں کو ہدایت دی تھی کہ عارضی کیمپ قائم کئے جائیں۔ بھیری زونل ہاسپٹل کے ڈاکٹرس اور نرسیس کو ان کیمپوں میں تعینات کیا جائے۔ فوج کے 3,444 ارکان عملہ راحت رسانی اور بچاؤ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ راحت رسانی کے لئے اقوام متحدہ کے دفتر، ریڈ کراس، صیانتی محکموں اور مختلف مقامی رضاکارانہ تنظیموں سے بھی ربط پیدا کیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں مسلسل بارش سے فوری راحت رسانی ناممکن بن گئی ہے۔ نائب وزیراعظم رام دیو گوتم بذریعہ طیارہ یہاں پہنچ گئے اور انہوں نے مقامی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سیلاب کے متاثرین کو ہر ممکنہ مدد فراہم کی جائے۔