نیٹ نیوٹریلیٹی کیا ہے؟عوام کی رائے کی اہمیت کیا ہوگی؟

حیدرآباد22 اپریل(سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں ان دنوں مودی حکومت کے خلاف کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے نیٹ نیوٹریلیٹی (انٹرنیٹ غیر جانبداری) کے ضمن میں عوامی خواہش کی ترجمانی کی کوشش کی ہے لیکن اس نیٹ نیوٹریلیٹی موضوع کے متعلق ایک عام ہندوستانی کے ذہن میں کئی سوالات موجود ہیں اور دوسری جانب ٹیلی کام ریگولاریٹی اتھاریٹی آف انڈیا (ٹرائی)نے24 اپریل آخری تاریخ مقرر کی ہے جہاں عوام اپنی رائے کا اس مسئلہ میں استعمال کرسکتے ہیں ۔ان حالات میں عام ہندوستانی کے ذہن میں کچھ سوالات پائے جاتے ہیں کہ آخری یہ نیٹ نیوٹریلیٹی کیا ہے؟ ‘ اور اس میں بی جے پی حکومت اتنی دلچسپی کیون دکھا رہی ہے؟اور راہول گاندھی نے لوک سبھا میں اس موضوع کو اتنی اہمیت کیوں دی ہے؟ سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نیٹ نیوٹریلیٹی سے کیا مراد ہے؟نیٹ نیوٹریلیٹی کا مطلب عام صارف تک انٹرنیٹ کو بغیر کسی جانبداری اور مساوات کے ساتھ پہنچانا ہے یعنیٰ جس طرح ہندوستان میں جمہوریت کے تحت بنیادی ضروریات کو یقینی بنانے میں کسی قسم کے امتیازی سلوک کو اختیار نہیں کیا جاتاہے اس طرح انٹرنیٹ اور اس سے حاصل ہونے والی سہولیات کی عوام تک رسائی میں کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا ہے لیکن مودی حکومت چونکہ کارپوریٹ گھرانوں کے مفاد میں کچھ فیصلے کرنے کی کوشاں ہیں لہذا نیٹ نیوٹریلیٹی کے اس موضوع کو اسی تناظرمیں دیکھا جارہا ہے ۔نیٹ نیوٹریلیٹی کے مسئلے کو لیکر

موبائیل فونس کی نمبر ایک کمپنی ایر ٹیل اور اسکی تجارتی ساتھی کمپنی آمیزان کے علاوہ فیس بک اور اسکے تجارتی ساتھی این ڈی ٹی وی میں اختلافات سامنے آچکے ہیں۔عوام کو بغیر کسی امتیازی سلوک یعنیٰ کارپوریٹ گھرانوں کو زیادہ سہولیات اور عام صارف کو دوسرے اور تیسرے درجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے حکومت کے اس فیصلے کو حتمی شکل دینے سے باز رکھنے میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ اہم رول ادا کرسکتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ کے غیر جانبدار موقف کو جوں کا توں رکھنے اور ٹرائی تک اپنی بات پہنچنے کے لئے باضابطہ ایک ویب سائیٹ www.savetheinternet.in تیار کردی گئی ہیں جہاں تا حال 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے اپنا ووٹ اور اپنا موقف ظاہر کیا ہے تاکہ انٹر نیٹ کی عالمی سہولت کو امتیازی زمرہ میں شامل کئے جانے سے روکا جاسکے۔دریں اثناء ہندوستان کے ہر عام صارف کو انٹرنیٹ کو عام اور کسی امتیازی زمرہ سے دور رکھنے کا موقع ہے کیونکہ وہ اپنی رائے کے ذریعہ ہندوستان میں چل رہے اس اہم مسئلہ میں تعمیری کردار ادا کرسکتاہے۔مذکورہ ویب سائیٹ پر رائے درج کرنے کی آخری تاریخ 24 اپریل مقررر ہے۔