ملک کے تمام پولیس اسٹیشنس میں خاتون عملہ یقینی بنانے کی کوشش
نئی دہلی ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس سے متعلق فائلس کے ’’حساس معاملے‘‘ کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کا یہ بھی موقف تھا کہ ان فائلس کے افشاء کیلئے پیشرو حکومت ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے یہ تنازعہ کھڑا ہوا۔ منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کرن رجیجو نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں حساس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے۔ اس مسئلہ سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ فائلس کا جو بھی افشاء ہوا ہے اس کیلئے پیشرو حکومت ذمہ دار ہے۔ ہم نے کسی بھی حصہ کا افشاء نہیں کیا اور نہ صحافت کے حوالہ کرتے ہوئے قومی شخصیتوں کی توہین کی ہے۔ نیتاجی کے قریبی رشتہ داروں کی جاسوسی کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ مکرجی کمیشن کی رپورٹ ایک واضح دستاویز ہے اور اس پر نظرثانی کیلئے وقت درکار ہوگا۔ کرن رجیجو نے خواتین کی سلامتی پر تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکز اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہیکہ مکمل خاتون عملہ پر مبنی پولیس اسٹیشنس کے بجائے ملک بھر کے تمام پولیس اسٹیشنس پر خاتون پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پولیس اسٹیشنس میں خاتون پولیس ہونی چاہئے اور سیکوریٹی فورسیس ، پیرا ملٹری فورسیس اور پولیس میں ان کی شمولیت یقینی ہونی چاہئے۔ رجیجو نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت کیلئے عوامی شراکت داری اور تعاون ناگزیر ہے۔