نئی دہلی 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر فرقہ پرستی کا ’’زہر‘‘ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے پارٹی کارکنوں کو جواہر لال نہرو کے ’’فراخدل ہندوستان‘‘ کے نظریہ کو ختم کرنے کی جدوجہد میں حصہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ اِس طرح نہرو کی وراثت کے خلاف جنگ میں شدت پیدا کردی ہے۔ صدر و نائب صدر کانگریس سونیا اور راہول گاندھی نے مودی کا نام لئے بغیر یہ الزام عائد کیا۔ وہ پنڈت نہرو کے 125 ویں یوم پیدائش کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ راہول گاندھی نے کہاکہ آج کل ملک کی باگ ڈور ’’برہم‘‘ افراد کے ہاتھوں میں ہے۔
اُنھوں نے سوچھ ابھیان پر تنقید کرتے ہوئے اُسے تصویر کشی اور تشہیر کا ایک طریقہ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ محبت اور اُخوت کی بنیادیں اُکھاڑی جارہی ہیں۔ ایک طرف مکانوں اور سڑکوں کی صفائی ہورہی ہے، تصویر کشی کروائی جارہی ہے، دوسری طرف زہر پھیلایا جارہا ہے تاکہ بنیادوں کو کمزور کیا جاسکے۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور سابق چیف منسٹر دہلی شیلا ڈکشٹ بھی اِس موقع پر موجود تھیں۔ سونیا گاندھی نے پارٹی کارکنوں سے متحد ہوجانے اور تنظیم کو مستحکم کرنے کے علاوہ فراخدل ہندوستان کے نہرو کے نظریہ کو منہدم کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے کی تلقین کی۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ نہرو کے نظریہ پر نہیں بلکہ اِس نظریہ کے تمام حامی افراد پنڈت نہرو کی زندگی بھر کی جدوجہد پر ضرب ہے۔ صدر کانگریس نے کہاکہ اگر نہرو زندہ ہوتے تو اُنھوں نے کانگریسیوں سے فرقہ پرستی کی ہر شکل کے خلاف جنگ کرنے کی ایک بہادر سیکولر فوجی کی حیثیت سے جنگ کرنے کی ہدایت دی ہوتی تاکہ ہندوستان کی روح کو محفوظ رکھا جاسکے۔
گزشتہ 6 ماہ میں پارٹی غیر این ڈی اے طاقتوں کو سیکولرازم کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 17 اور 18 نومبر کو بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جارہی ہے جس میں مجاہدین آزادی جیسے مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کی وراثت کی ستائش کی جائے گی۔ سونیا گاندھی نے شخصی طور پر تمام قائدین بشمول نتیش کمار اور ممتا بنرجی کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ تاہم وزیراعظم نریندر مودی مدعو نہیں کئے گئے۔ سونیا گاندھی نے کانگریسیوں کو پارٹی کی 129 سالہ تاریخ یاد دلاتے ہوئے کہاکہ اُنھیں آج بھی اُسی طرح متحرک رہنا ہے۔ ہمارے قائدین سے چیالنجوں سے نمٹنے کا سبق سیکھنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر کسی شخص کو عوام کی محبت اور اعتماد حاصل ہو تو وہ اقتدار اور اختیار کے بغیر بھی ملک کی سمت کا تعین کرسکتا ہے۔